.

ایران پر بین الاقوامی دباؤ کے بعد خاتون وکیل نسرین ستودہ کی عارضی رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام نے خاتون وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نسرین ستودہ کو ہفتے کے روز مالی ضمانت کے عوض عارضی طور پر رہا کر دیا ہے۔

ایرانی عدلیہ کے زیر انتظام خبر رساں ایجنسی "ميزان" نے بتایا ہے کہ نسرین کی عارضی رہائی "قرچک" جیل میں خواتین کے قید خانے کے سپرنٹنڈنٹ کی منظوری کے بعد عمل میں آئی۔ قرچک جیل تہران کے جنوب میں ورامین کے علاقے میں واقع ہے۔

خبر رساں ایجنسی نے مالی ضمانت کی رقم، عارضی رہائی کی مدت اور دیگر تفصیلات کے بارے میں نہیں بتایا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کی سربراہ میشیل بیشلیٹ نے گذشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں ایرانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بیچ نسرین ستودہ ، سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے تمام مدافعین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

یاد رہے کہ 57 سالہ نسرین ستودہ کو انسانی حقوق کے میدان میں ان کی سرگرمیوں سے متعلق الزامات کے تحت 30 برس سے زیادہ کی قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

تقریبا دو ماہ قبل نسرین نے جبری گرفتاری جاری رہنے اور جیلوں میں غیر اطمینان بخش طبی سہولیات پر احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کر دی تھی۔ بعد ازاں صحت کے تیزی سے بگڑنے کے سبب انہوں نے تقریبا 50 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

ایرانی حلقوں نے ٹویٹر کے ذریعے نسرین ستودہ کی سپورٹ کے واسطے مہم چلائی۔ اس دوران خبردار کیا گیا کہ خاتون وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کی صحت خراب ہے۔

نسرین ستودہ انسانی حقوق کے میدان کئی بین الاقوامی انعامات اور اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔