.

جبران باسیل کے بعد بھی لبنانی سیاست دانوں کے سروں پر امریکی پابندیوں کی تلوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیر خارجہ جبران باسیل پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکی پابندیوں کی تلوار لبنان میں متعدد سیاست دانوں پر لٹکی رہے گی۔ خواہ وائٹ ہاؤس میں کرسی صدارت پر نئی شخصیت براجمان ہو یا لبنان میں نئی حکومت تشکیل پائے یا نہیں۔

امریکی وزارت خارجہ میں ایک ذمے دار نے عربی روزنامے الشرق الاوسط کو بتایا کہ امریکا اُن لبنانی رہ نماؤں کے احتساب کے لیے اپنے پاس موجود تمام اختیارات کو استعمال میں لائے گا جو اپنے ذاتی مفادات کو لبنانی عوام کے مفاد پر فوقیت دیتے ہیں۔

مذکورہ امریکی سفارت کار نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ امریکی پابندیاں لبنان میں حکومت کی تشکیل کے عمل یا امریکا میں صدارتی انتخابات کے ساتھ مربوط ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "یہ معاملہ احتساب سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم کسی مخصوص گروپ، جماعت یا فرقے کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں بلکہ ہمارا ہدف بدعنوانی ہے۔ اب حرکت میں آنے کا وقت ہے اور لبنانی رہ نماؤں پر لازم ہے کہ وہ لبنانی عوام کے مطالبات کو پورا کرتے ہوئے فوری طور پر مطلوبہ اصلاحات پر عمل درامد کریں تا کہ ملک میں پھیلی بدعنوانی کا قلع قمع کیا جا سکے"۔

واضح رہے کہ لبنانی صدر میشیل عون نے ہفتے کے روز اپنی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ثبوتوں کو حاصل کرے جن کی بنیاد پر واشنگٹن لبنانی صدر کے داماد جبران باسیل پر پابندیاں عائد کرنے پر مجبور ہو گیا۔ امریکا نے حزب اللہ کے حلیف باسیل پر بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔

لبنانی صدر نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی کہا کہ ان دستاویزات کو لبنانی عدلیہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے تا کہ کسی بھی معلومات کے فراہم کیے جانے پر مطلوبہ اقدامات کیے جا سکیں۔

واضح رہے کہ 50 سالہ جبران باسیل لبنانی صدر میشیل عون کی سب سے زیادہ قریبی شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ نیشنل فریڈم پارٹی کے صدر بھی ہیں جس کے سربراہ مشیل عون ہیں۔ علاوہ ازیں باسیل لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے قریبی حلیف شمار ہوتے ہیں جب کہ واشنگٹن حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے جمعے کے روز جبران باسیل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ "براہ راست یا بالواسطہ طور پر بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ ان میں ریاست کے اثاثوں میں غبن اور ذاتی منافع کے لیے خصوصی اثاثوں کا استعمال شامل ہے"۔

اسی طرح ایک امریکی ذمے دار نے ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ باسیل نے لبنان میں حکومتی تشکیل میں تاخیر کے واسطے اپنے نفوذ کا استعمال کیا۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ باسیل نے حزب اللہ کے ساتھ سیاسی شراکت داری قائم کی ہوئی ہے۔ اس شراکت داری نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کو حکومتی نظام میں اپنے نفوذ میں توسیع کرنے کا موقع دیا جب کہ حکومتی نظام لبنانی عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا"۔

یہ پہلا موقع ہے کہ لبنان میں اس سطح کا کوئی اعلی عہدے دار امریکی پابندیوں کی لپیٹ میں آیا۔

جبران باسیل 2018ء سے پارلیمںٹ میں سب سے بڑے بلاک کے سربراہ ہیں۔ سال 2008ء کے بعد سے انہوں نے مختلف وزارتوں کے قلم دان سنبھالے جن میں توانائی، مواصلات اور خارجہ شامل ہے۔