.

ایران: خونی لیڈر انقلاب عدالت کا چیف جسٹس تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس احمد زرغر کو تہران میں ایک انقلاب عدالت کا چیف جسٹس تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جسٹس زرغر پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، اپوزیشن رہ نمائوں اور سیاسی کارکنوں کو سزائے موت دینے اور ان پر مظالم ڈھانے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

ایران کی 'ارنا' نیوز ایجنسی کے مطابق جسٹس موسیٰ غضنفرآبادی کی ریٹائرمنٹ کے بعد زرغر کو انقلاب عدالت کا چیف جسٹس تعینات کیا ہے۔ غضنفرآبادی اس وقت ایرانی پارلیمنٹ میں جوڈیشل کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

زرغر کو تہران میں قائم کردہ اپیل انقلاب عدالت کے کورٹ 36 کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ عدالت ایران میں مالی بدعنوانی کے کیسز کی تحقیقات کے لیے مختص ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس زرغر ایران میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

گذشتہ بدھ کو احمد زرغر نے اپنی تعیناتی کی تقریب سے خطاب میں اعتراف کیا تھا کہ انقلاب عدالتیں مشکل حالات میں قائم کی گئی تھیں۔ گذشتہ چالیس سال کے دوران ان انقلاب عدالتوں نے ملک کی کئی مشکلات حل کی ہیں۔ میں بھی عدلیہ کا حصہ رہا ہوں اور میں نے 1979ء کے بعد ملک کی دن رات خدمت کی ہے۔

خیال رہے ایران میں انقلاب عدالتوں کا قیام سنہ 1979ء‌کو ایرانی لیڈر روح اللہ خمینی کی ہدایت پر عمل میں‌ لایا گیا تھا۔ نام نہاد انقلاب عدالتوں پر اپوزیشن کو کچلنے اور ایران کے مذہبی سیاسی نظام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

انقلاب عدالت کے نئے سربراہ گذشتہ چار عشروں کے دوران جج کی حیثیت سے صحافیوں، سماجی کارکنوں، سیاسی رہ نمائوں اور عام شہریوں کو کڑی سزائیں دلوانے کی وجہ سے مشہور رہے ہیں۔