.

عرب میڈیا میں قیمتی اضافہ:’’الشرق‘‘ نیوز چینل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا اجرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقِ وسطیٰ میں عربی زبان کے چینلوں میں ایک اور اضافہ ہوا ہے اور اب ’الشرق نیوز‘ نے امریکی چینل ’بلوم برگ نیوز‘ اور سعودی ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ گروپ کے اشتراک سے نشریات شروع کر دی ہیں۔

سعودی ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ گروپ عرب نیوز، لندن سے شائع ہونے والے سب سے بڑے عربی اخبار الشرق الاوسط اور سعودی عرب میں میڈیا کے کئی اداروں کا مالک ہے۔ یہ چینل عربی زبان میں ہو گا اور اس کا مواد انٹرنیٹ پر اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نشر کیا جائے گا۔ الشرق نیوز کا ہیڈ کوارٹر ریاض میں ہے جبکہ مرکزی دفاتر دبئی انٹرنیشنل فائنینشل سینٹر [ڈی آئی ایف سی] اور واشنگٹن ڈی سی میں ہیں۔

’بلوم برگ‘ کے اشتراک سے ظاہر ہے کہ ’الشرق نیوز‘ کا ارتکاز کاروبار اور مالیات پر ہو گا، لیکن ادارے کے سربراہوں نے کہا ہے کہ وہ عمومی خبروں، تجزیوں اور عام دلچسپی کے موضوعات پر بھی توجہ دیں گے۔ الشرق نیوز کا بلوم برگ سے اشتراک ہونے کی وجہ سے معاشی اور کاروباری خبروں پر یقیناً توجہ ہو گی لیکن چینل کی اعلیٰ انتظامیہ کے مطابق اس میں دیگر خبریں، تجزیے اور لائف سٹائل سے متعلق مواد شامل ہو گا۔

بلوم برگ نیویارک میں قائم بڑی میڈیا کمپنی ہے جس میں دنیا بھر کے 167 مقامات پر 2700 سے زیادہ صحافی اور تجزیہ کار کام کرتے ہیں۔ بلوم برگ کاروبار سے متعلق خبروں میں اپنی آزادانہ سوچ اور معمول سے ہٹ کر رپورٹیں دینے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔

’الشرق نیوز‘ کے جنرل مینیجر اور نامور فلسطینی صحافی ڈاکٹر نبیل الخطیب نے معاصر عزیز ’’عرب نیوز‘‘ سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ عربی زبان کے چینلوں کی کمی نہیں اور خلیج کے علاقے میں 18 چینل پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں، لیکن پھر بھی اس قسم کی چینل کی خاص ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ ایسے ٹارگٹ گروپ خطے میں موجود ہیں جن کے لیے مناسب مواد پر توجہ نہیں دی جا رہی یا جن کے لیے مواد موجود نہیں ہے۔‘ نبیل الخطیب نے مزید بتایا کہ علاقائی حساسیت کی بنا پر بلوم برگ کے مواد میں رد و بدل نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا، ’ہمارے خیال میں جو خطے کے مفاد کے لیے مناسب ہے، ہم اسے من وعن لیں گے۔ اگر ہمیں کوئی ایسا آرٹیکل نظر آئے جو ہمارے قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو تو ہم اس کا ویسے ہی ترجمہ کریں گے۔ اگر یہ کسی وجہ سے مناسب نہ ہوا تو پھر ہم اسے لیں گے ہی نہیں۔ یا تو ہم پورا آرٹیکل لیں گے، یا پھر بالکل نہیں لیں گے۔‘

الشرق نیوز کی مرکزی اینکر زينہ يازجی نے نشریات شروع ہونے سے پہلے عرب نیوز کو بتایا کہ ’الشرق میں ہمارا یقین ہے کہ آج کے نوجوان سوچتے ہیں اور وہ سمجھنا چاہتے ہیں، ان کی اپنی رائے اور نقطہ نظر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رائے کو سنا جائے۔ ہم الشترق میں ایسے ہی خبروں اور نوجوانوں کو دیکھیں گے۔ ‘

اس چینل کے علاقائی رنگوں میں سے ایک مصری ڈاکٹر اور طنز نگار باسم یوسف کا پروگرام ہو گا۔ باسم یوسف نے ’عرب نیوز‘ کو بتایا، ’اس طرح کے پلیٹ فارم پر ایسا موقع ملنا بہت زبردست بات ہے کہ لوگوں کو صحت کے بارے میں مختلف طریقے سے آگاہ کیا جائے۔‘