.

ایران نطنز کے زیرزمین جوہری پلانٹ پر جدید سینٹری فیوج تیار کررہا ہے: آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے زیر زمین افزودگی پلانٹ نطنز میں جدید ترین سینٹرفیوجز کی ایک سیریز کی پہلی تیاری شروع کرد دی ہے۔ ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے مطابق یہ جوہری پلانٹ صرف IR-1 آلات کی پہلی جنریشن میں استعمال ہوسکتا ہے۔

ایران نے اس سے قبل ایجنسی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ نطنز جوہری مقام پر زمین کے اوپر ایک تجرباتی پلانٹ سے یورینیم کی افزودگی کے آلات کے تین سیٹ ایک زیرزمین اسٹیشن میں منتقل کرے گا۔ ایران کا تھا کہ زمین کی سطح‌پر موجود سینٹری فیوج ورکشاپ میں ٹوٹ پھوٹ اور آتش زدگی کے بعد یہاں سے کچھ جوہری مواد زیر زمین منتقل کرے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے ذریعہ اقوام متحدہ کی ایک خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کل، بدھ کو جاری کی گئی ج میں کہا گیا ہے کہ ایران نے "IR-2M" سنٹری فیوجز کا ایک سلسلہ نصب اور باہم منسلک کیا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران سے ایک مشتبہ جوہری سائٹ کے بارے میں نئی وضاحتیں پیش کرنے کو کہا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تہران کی فراہم کردہ معلومات میں " ناقابل اعتبار ہیں"

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایرانی حکام نے اس سائٹ کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کی ہیں۔ ایجنسی نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ تاحال ایرانی ردعمل کو تکنیکی اعتبار سے ناقابل اعتبار سمجھتا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے مقام پر مصنوعی یورینیم ذرات کی موجودگی کی مکمل اور تیز وضاحت فراہم کرے جسے ایجنسی نے یورینیم کی افزودگی کے لیے مختص نہیں کیا ہے۔

اگرچہ ایجنسی نے مذکورہ بالا سائٹ کی اپنی رپورٹ میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے تاہم سفارتی ذرائع نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ وہ تہران کے علاقے ترقوزآباد میں واقع ہے۔ اسرائیل نے ایران پر وہاں خفیہ جوہری سرگرمیاں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔