.

ترک حکام کے ہاتھوں فلسطینی صحافی کا اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں فلسطینی صحافی احمد الاسطل کے پراسرار طور پر لا پتہ ہو جانے کے تقریبا دو ماہ بعد ترک حکام نے انکشاف کیا ہے کہ 45 سالہ سرطان کا مریض صحافی ان کی حراست میں ہے۔ احمد 21 ستمبر کو اپنے گھر سے غائب ہو گیا تھا۔

ترکی حکام نے احمد پر جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ وہ ہی منظر نامہ ہے جو مئی 2019ء میں اغوا ہونے والے فلسطینی ریٹائرڈ افسر زکی مبارک کے معاملے میں سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں زکی استنبول کی سیوری جیل میں خود کشی کے سبب مردہ پایا گیا تھا۔ اس کے جسم پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔

احمد کے بھائی غسان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ ترک سیکورٹی فورسز نے احمد کے گھر پر دھاوا بولا تھا جو 7 برس سے ترکی میں ملازمت کر رہا ہے۔ اس وقت احمد گھر پر موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں واپسی پر احمد نے دیکھا کہ اس کا کمپیوٹر سسٹم غائب تھا۔ کمپیوٹر میں اس کے تحریری اور تحقیقی کام کے علاوہ اس کی ذتی تصاویر اور اس کی اور اس کے اہل خانہ کی ذاتی دستاویزات محفوظ تھیں۔ احمد نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس نے ملزمان کے تعاقب اور واقعے کی تحقیق کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

غسان کے مطابق واقعے کے دو ہفتے بعد 21 ستمبر کو نامعلوم افراد نے اس کے بھائی احمد کو سقاریا صوبے میں ایک عام شاہراہ سے اغوا کر لیا۔ احمد کی بیوی نے اپنے شوہر کے اغوا ہونے کی رپورٹ درج کرائی۔ بعض عینی شاہدین نے نقاب پوش افراد کے ہاتھوں احمد کے اغوا ہونے کی تصدیق کی۔ پولیس نے اس معاملے کو دیکھنے کا وعدہ کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اس دوران فلسطین میں غزہ کی پٹی میں احمد کے خاندان نے ترکی میں فلسطینی سفارت خانے سے رابطہ رکھا۔

غسان نے بتایا کہ اس واقعے کے ایک ماہ بعد ترک انٹیلی جنس نے میڈیا کے ذریعے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس نے جاسوسی کے الزام میں ایک فلسطینی صحافی کو گرفتار کیا ہے۔ میڈیا نے قانونی چارج شیٹ اور باقاعدہ تحقیق کے بغیر ہی جھوٹی روایتوں کے ذریعے احمد کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔ احمد کی بیوی اور دو چھوٹی بچیوں کو اس سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی طرح احمد کے ذاتی وکیل کو بھی اپنے مؤکل سے رابطے کی اجازت نہیں ملی۔

فلسطینی صحافیوں کی انجمن کی جانب سے جاری ایک بیان میں احمد کے لا پتہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی صحافیوں کے بین الاقوامی اتحاد اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ احمد کے انجام کا پتہ چلانے کے واسطے مداخلت کریں۔

ترک انٹیلی جنس کے مطابق احمد پر جاسوسی کرنے اور جولائی 2016ء میں ہونے والی فوجی انقلاب کی کوشش کو سپورٹ کرنے کے الزامات ہیں۔ غسان نے اپنے بھائی پر عائد الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ احمد کو تشدد کا سامنا ہے جس سے اس کی جان بھی جا سکتی ہے کیوں کہ وہ تھائیرائڈ گلینڈ کے سرطان کا مریض ہے۔ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ تشدد کے ذریعے احمد سے جھوٹا اعترافی بیان لیا جا سکتا ہے۔

غسان نے فلسطینی اتھارٹی، وزارت خارجہ اور ترکی میں فلسطینی سفارت خانے سے مطالبہ کیا کہ وہ احمد کو بچانے ، اس کے تحفظ اور اسے قانونی حقوق دلانے کے واسطے مداخلت کریں۔ مزید یہ کہ احمد کا ذاتی وکیل تحقیقات کے دوران اپنے مؤکل کے ہمراہ موجود ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ ترک حکام نے اپریل 2019ء میں ایک فلسطینی ریٹائرڈ افسر زکی مبارک کو اغوا کر لیا تھا۔ دو ہفتے بعد حکام نے اعلان کیا کہ زکی کو جاسوسی کے الزام میں سیلوری جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ چند روز بعد حکام نے بتایا کہ زکی نے اپنی جیل میں پھندا لگا کر خود کشی کر لی۔

مئی 2019ء میں زکی کی میت ترکی سے قاہرہ پہنچی تو اس پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔ زکی کے جسم کے تمام حصوں میں طبی سلائی کے نشان موجود تھے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی تصاویر میں ظاہر ہو رہا تھا کہ زکی کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور کھوپڑی میں بھی فریکچر تھا۔علاوہ ازیں جسم پر بجلی کے جھٹکوں اور فولادی چھڑی سے مار پیٹ کے آثار بھی واضح تھے۔

زکی کے اہل خانہ کی جانب سے لاش کے پوسٹ مارٹم کی درخواست کی گئی۔ مصری حکام کی طرف سے کیے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ زکی کی موت شدید تشدد کے دوران واقع ہوئی۔ دوسری جانب ترکی کے حکام نے زکی کی موت کو خود کشی قرار دیا تھا۔