.

لیبیا کے متحارب فریقین کے تونس میں مذاکرات،18 ماہ میں انتخابات پراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اقوام متحدہ کے قائم مقام ایلچی اسٹیفنی ولیمز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے متحارب دھڑوں کی جانب سے ملک کے اندر تقسیم کے خاتمے کے لیے سیاسی و عسکری محاذ پر اہم پیش قدمی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تونس کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں ملک میں ڈیڑھ سال کے اندر اندر پارلیمانی انتخابات کرانے پر اتفاق کیا ہے۔

مسزولیمز نے بدھ کی شام تونس میں ایک پریس کانفرنس کے کہا کہ تونس کی میزبانی میں لیبیا کے متحارب دھڑوں میں مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ فریقین نے عبوری مدت ختم کرنے اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ابتدائی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین میں بات چیت انتہائی خوش گوار ماحول میں ہوئی اور تمام ارکان نے تعمیری انداز میں بات یت کی ہے۔ فریقین نے 18 ماہ کے دوران انتخابات کرانے اور نیا حکومتی ڈھانچہ تیار کرنے پراتفاق کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئینی اقدامات سمیت آئینی بنیادوں اور انتخابات کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی عہدیدار نے بتایا لیبیا کے فریقین نے ملک میں فوجی کارروائیاں روکنے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی جنگ بندی پر عمل درآم جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں فریقین نے گذشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں طے پائے معاہدے پرعمل درآمد یقینی بنانے سرت شہر میں سیکیورٹی کمیٹیوں کو فعال کرنے اور غیرملکی جنگجووں کی واپسی پر اتفاق کیا ہے۔