.

امریکا کی ایران پر دباو کی پالیسی ختم ہونے والی ہے: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہےکہ امریکی حکومت کی تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی ختم ہونے والی ہے، تاہم انہوں‌ نے اپنے اس دعوے کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔

روحانی نے جمعرات کے روز اپنے ریمارکس میں کہا کہ امریکا ، یورپ اور دنیا کے دوسرے مقامات سے آنے والے تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ بیکار ہے اور یہ دباؤ اب ختم ہونے والا ہے۔

جوبائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی روزانہ کی بنیاد پر امریکی پالیسی میں تبدیلی کے امکانات پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے سخت موقف پر مبنی پالیسی ختم ہونے والی ہے۔

موجودہ اور سابق امریکی سرکاری عہدے داروں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متعلق قوانین کے تحت پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے سے انہیں اٹھانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

بدھ کے روز ایرانی صدر نے اعلان کیا کہ وہ تہران سے پابندیاں ختم کرنے کے کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ان کا اشارہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد اگلی امریکی انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے اپنی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم ایران کے متشدد اور سخت گیر حلقوں کی طرف سے امریکا کے مذاکرات کا عندیہ دینے پر روحانی کو سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔ گذشتہ ہفتے ایرانی صدر نے کہا تھا کہ امریکا کی نئی انتظامیہ ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرے۔ انہوں‌ نے امریکا کے ساتھ بات چیت کی بحالی کا بھی عندیہ دیا تھا تاہم انہیں سخت گیر مذہبی حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات سے انکار کا اعادہ ہوئے کہا کہ ایران کو درپیش معاشی اور اقتصادی مشکلات بد انتظامی کا نتیجہ ہیں امریکی پابندیوں کا اثر نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے ایران کو معاشی دباو کے ذریعے اپنے سامنے جھکانے کا منصوبہ بری طرح ناکام رہا ہے۔