ایران پر دباؤ کا سلسلہ جاری رہے گا ، ثمرات آئندہ برس سامنے آئیں گے : امریکی ایلچی
ایران کے امور سے متعلق امریکا کے خصوصی ایلچی ایلوٹ ابرامز نے ایک بار پھر یہ موقف دہرایا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر کی جانب سے اس وعدے کے باوجود کہ امریکا عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے میں واپس شامل ہو جائے گا ،،، جو بائیڈن کی انتظامیہ ایران پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ کی مہم جاری رکھے گی۔
ابرامز کے مطابق ایران کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی نفوذ کے سبب تہران پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
جمعرات کے روز ابوظبی میں امریکی سفارت خانے میں ایسوسی ایٹڈ پریس (نیوز ایجنسی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی ایلچی کا مزید کہنا تھا کہ "ان کا ملک جوہری معاہدے میں واپس لوٹ بھی آئے تب بھی ایران کی طرف سے حالیہ طور پر افزودہ اس یورینیم کے ساتھ بنیادی نوعیت کے وہ تمام مسائل حل نہیں ہوں گے اگر تہران کو طویل مدت تک ان پاسداریوں کی خلاف ورزی کی اجازت دے دی گئی جو اس نے عالمی برادری سے کیے تھے"۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے پروگرام کا بھرپور فائدہ آئندہ سال دیکھنے میں آئے گا۔ ایران کو اپنے رویے میں تبدیلی پر مجبور کرنے کے لیے یہ تمام دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔
ایران میں نطنز کی تنصیب اور یورینیم کی افزودگی کے لیے ایک زیر زمین کمپلیکس کی تعمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ابرامز نے اسے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے لیے ایک اور چیلنج قرار دیا۔ امریکی ایلچی نے تہران کے باہر مشکوک ٹھکانے میں تحقیق کے لیے عالمی ایجنسی کو اجازت دینے میں ایران کی ٹال مٹول کی مذمت کی۔ اس مقام پر یورینیم کی افزودگی کے اجزا ملے ہیں۔
ایران اپنے جوہری پروگرام کے پر امن استعمال کی یقین دہانی کراتا رہا ہے تاہم ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے 2003ء کے اختتام تک ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت جوہری بم تیار کرنے سے متعلق سرگرمیاں انجام دیں۔
ایران کی جیلوں میں غیر ملکی گرفتار شدگان اور زیر حراست افراد کے مسئلے پر ابرامز کا کہنا تھا کہ تہران اپنی جیلوں میں زیر حراست امریکی شہریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں مستقبل میں مذاکرات کے لیے بطور کارڈ استعمال کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے پاس اس وقت افزودہ یورینیم کی جو مقدار موجود ہے وہ اس مقدار سے کہیں زیادہ ہے جس کی اجازت 2015ء میں طے پائے جانے والے جوہری معاہدے میں دی گئی تھی۔ معاہدے کی رُو سے افزودہ یورینیم کی 300 کلو گرام سے کم مقدار کی اجازت دی گئی تھی تاہم تہران کے پاس ذخیرہ کی گئی افزودہ یورینیم کا حجم 2440 کلو گرام سے زیادہ ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی تازہ ترین رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران نے ایٹم بم کے حصول کے لیے کام جاری رکھا تو یہ مقدار ممکنہ طور پر کم از کم دو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح ایران اس وقت 4.5 فی صد کے تناسب سے یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ یہ جوہری معاہدے کی رُو سے اجازت یافتہ تناسب سے زیادہ ہے۔ تاہم جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مطلوب سطح سے اب بھی بہت کم ہے۔
مئی 2018ء میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے اعلان کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی پر عائد تمام تر پابندیوں سے آزادی حاصل کر لی۔