.

دہشت گرد گروپ کی فنڈنگ ، قطر کو 330 شامی پناہ گزینوں کی جانب سے قانونی کارروائی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کو 330 شامی پناہ گزینوں کی جانب سے نئے قانونی اقدام کا سامنا ہے۔ مذکورہ پناہ گزین دوحہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے شام میں القاعدہ سے منسلک ایک دہشت گرد گروپ النصرہ فرنٹ کے لیے فنڈنگ کی جس نے ان افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ افراد نے جن میں بہت سے اب برطانیہ میں مقیم ہیں ،،، لندن کی ایک عدالت میں قطر کے خلاف ہرجانے کا دعوی دائر کیا ہے۔

متاثرین عدالت کی جانب سے سماعت کے انتظار میں ہیں۔ اس سے قبل بدھ کے روز 8 شامی پناہ گزینوں کی جانب سے دوحہ بینک کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی تھی۔ ان افراد نے واضح کیا ہے کہ وہ قطر کی ریاست اور دو شامی قطری کاروباری شخصیات کے زیر انتظام دوحہ بینک سے مالی ہرجانے کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ دونوں افراد معتز الخیاط اور رامز الخیاط سگے بھائی ہیں۔

متاثرین کا دعوی ہے کہ مذکورہ ادارے اور افراد نے امیر قطر شیخ تمیم آل ثانی کی طرف سے النصرہ فرنٹ کی غیر قانونی طریقے سے فنڈنگ کی۔

واضح رہے کہ دوحہ بینک کے خلاف دعوی دائر کرنے والے 8 میں سے 4 متاثرین اس کیس سے دست بردار ہو گئے۔ ان چار متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔

حالیہ کیس کی نگرانی کرنے والی لاء فرم McCue and Partners کے سینئر عہدے دار جیسن میکوے نے انگریزی اخبار دی نیشنل کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ برطانوی عدالت میں ہونے والی کارروائی میں ان سیکڑوں مدعیوں کو شامل کیا جائے گا جنہوں نے منصفانہ کارروائی کے لیے اپنی شکایات پیش کیں۔