.

سعودی خواتین کی برسوں سے جاری محرومیوں کا ازالہ کردیا: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے اصلاح پسند ولی عہد اور خواتین کے حقوق اور ان کی آزادیوں کے علم بردار محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی خواتین کو برسوں محرومیوں کا سامنا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں ولی عہد نے مملکت میں ہونے والی مختلف شعبوں میں ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ان میں‌ خواتین کے کردار کا اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سے کچھ عرصہ قبل مملکت میں خواتین کو سفر کی آزادی نہیں تھی۔ وہ کھیلوں،ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتی تھیں اور نہ ہی انہیں ڈرائیوںگ کی اجازت تھی۔ اسی طرح کئی دوسرے شعبوں میں خواتین کو کام کی آزادی نہیں تھی اور بہت سے کاموں‌ میں‌ خواتین کے لیے محرم کی موجودگی لازمی قرار دی جاتی تھی۔ اس طرح خواتین نے دسیوں برس محرومیوں کا سامنا کیا مگر آج خواتین بہت سے شعبوں میں‌ با اختیار ہیں۔

ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ مملکت نے خواتین کو با اختیار بنانے اور مختلف شعبوں میں ان کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کیے ہیں۔ موجودہ حکومت سعودی خواتین کو ملک کی تعمیر وترقی کے لیے مردوں کے ساتھ بنیادی اکائی تصور کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے خواتین کو صرف گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دی بلکہ ان کے لیے ترقی سفر میں عملی شرکت کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس وقت کاروباری شعبے میں‌ خواتین کی شرکت 17 فی صد سے بڑھ کر 31 فی صد ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ستمبر 2017ٰء کو ایک نئے حکم نامے کے تحت خواتین کو ڈرائیوںگ کی اجازت دے دی تھی۔