.

سعودی عرب : حوثیوں کی بم بار کشتیوں کی تباہی کے بعد جازان میں لگنے والی آگ پر قابو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزارت توانائی کے ذمے دار ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بدھ کی شام جازان میں پٹرولیم مصنوعات کے ایک ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کے زیر انتظام ڈسچارج پلیٹ فارم کے تیرتے پائپس میں آگ بھڑک اُٹھی۔ یہ واقعہ یمن میں آئینی حکومت کی سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی فوج کی جانب سے الحدیدہ شہر سے بحر احمر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بھیجی گئی دو ریموٹ کنٹرولڈ بم بار کشتیوں کو تباہ کرنے کے دوران پیش آیا۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق متعلقہ ٹیمیں قاعدے کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے آگ سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ذرائع نے باور کرایا کہ مملکت اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ ایک دہشت گرد اور تخریبی کارروائی ہے۔ اس طرح کی تمام کارروائیوں کا ہدف سعودی عرب نہیں بلکہ درحقیقت تیل کی برآمدات اور دنیا بھر کے لیے توانائی کی مستحکم ترسیل کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ اس طرح پوری عالمی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سمندری جہاز رانی پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ علاقائی ساحلوں اور پانی کو ماحولیاتی آفات سے دوچار کرتی ہیں۔

اس سے قبل عرب اتحاد کی فوج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج نے دونوں بم بار کشتیوں کو تباہ کر دیا جو علاقائی اور بین الاقوامی امن کے علاوہ سمندری جہاز رانی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ بننے جا رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے یمن کے صوبے الحدیدہ کو بیلسٹک میزائل داغنے، ڈرون طیارے اور بم بار کشتیاں بھیجنے اور اندھا دھند سمندری بارودی سرنگیں پھیلانے کا مرکزی مقام بنا رکھا ہے۔ یہ بین الاقوامی انسانی قانون اور الحدیدہ میں فائر بندی سے متعلق اسٹاک ہوم معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔