.

ایران میں مظاہرین کے قتل عام کا معاملہ بین الاقوامی فوج داری عدالت میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں ایک سال قبل ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران وحشیانہ کریک‌ ڈاون اور اس دوران ہونے والے قتل عام کا معاملہ دی ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت میں اٹھایا ہے۔

گذشتہ برس نومبر میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایرانی پولیس اور فوج نے حملوں میں درجنوں افراد کو ہلاک اور سیکڑوں کو زخمی اور ہزاروں کوگرفتار کرلیا تھا۔ پرامن مظاہرین کے منظم کریک ڈائون کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ عالمی انصاف اور ایران میں‌پھانسیوں کےخلاف کام کرنے والی تنظیم 'معا' بے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ برس نومبر میں ایرانی پولیس کے ہاتھوں مظاہرین کے وحشیانہ قتل عام کا معاملہ بین الاقوامی فوج داری عدالت میں اٹھایا ہے۔ آنے والے چند دنوں میں عالمی فوج داری عدالت نومبر 2019ء کے دوران مظاہرین کے وحشیانہ کریک ڈائون کی تحقیقات شروع کرے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت کو متاثرین کی طرف سے کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں عدالت سے ایرانی پولیس کے ہاتھوں مظاہرین کےقتل عام کی تحقیقات پر زور دیا گیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو دی گئی درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس نومبرمیں مظاہرین کے قتل عام کے معاملے کو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے نظرانداز کیا ہے۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 23 دسمبر 2019ء‌ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ نومبر 2019ء میں دوہفتوں کے دوران جاری پرتشدد مظاہروں میں پولیس کے ہاتھوں 1500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں 17 نابالغ بچے اور 440 خواتین بھی شامل ہیں۔ ایرانی وزارت داخلہ کے تین عہیداروں نے بھی یہی اعدادو شمار بیان کیے ہیں۔

آئندہ چند دنوں کے دوران بین الاقوامی وکلا ایران میں کریک ڈائون کے متاثرہ خاندانوں، عینی شاہدین اور ماہرین سے ملاقاتیں کریں گے۔اس کے بعد 3 فروری کو تین دن تک اس معاملے پر بحث‌ کی جائے گی۔