.

بشار الاسد کی نئی مشیر کا تقرر، کیا بثنیہ شعبان کی چھٹی کر دی گئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کے مطابق خاتون صحافی لونا الشبل کو صدر بشار الاسد کی نئی مشیر تعینات کیا گیا ہے۔

شامی حکومت کے سرکاری اور وفادار نجی چینلوں کی رپورٹس اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی خبروں میں‌ بتایا گیا ہے کہ لونا الشبل کو صدر اسد کی خصوصی مشیر تعینات کیا گیا ہے مگر وہ اپنی سابقہ ذمہ داریاں بھی انجام دیتی رہیں گی۔

خیال رہے گذشتہ کئی سال سے بثنیہ شعبان کو صدر بشار الاسد اور اسد رجیم کا ابلاغی چہرہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ بثنیہ نے کئی سال تک بشار الاسد کی میڈیا میں ترجمانی کی مگر لونا الشبل کی تعیناتی کے بعد بثنیہ کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھنے لگے ہیں۔

یہ سوال مختلف ذرائع نے پوچھا ہے کہ الشبل کی تقرری کے بعد کیا بثنیہ شعبان کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ بثنیہ شعبان کو صدر بشارالاسد کا قریبی اور انتہائی وفادار سمجھا جاتا ہے۔ بثنیہ شعبان کو ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے ایرانی رجیم اور اسد رجیم کے درمیان رابطے کا اہم اور قابل اعتبار ذریعہ بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

حال ہی میں‌ بثنیہ شعبان کا ایک مضمون اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے خطے میں امریکی کردار کے حوالے سے انہی اصطلاحات کا استعمال کیا تھا جو عموما ایرانی سیاست دان استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بثنیہ شعبان کو کسی حد تک اصلاح پسند اور اعتدال پسند بھی قرار دیا جاتا ہے اور ان کی گفتگو اور تحریروں میں امریکا کو ایک مکمل دشمن کے بجائے ایک سیاسی حریف کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔