.

کرونا ویکسین تیار کرنے والی Pfizer کی ٹیم میں شامل عرب پروفیسر کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پوری دنیا اس وقت کرونا وائرس کی اس ویکسین کے بارے میں نئی خبروں کی منتظر ہے جو امریکی کمپنی "فائزر" اور جرمن کمپنی "بائیواین ٹیک"کی لیبارٹریز میں تیار کی گئی ہے۔ دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کے مؤثر ہونے کا تناسب 90% تک ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی فائزر کی جس طبی ٹیم نے مذکورہ ویکسین کی تیاری میں حصہ لیا اس میں الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک محقق سلیم بوقرموح بھی شامل ہیں۔ بوقرموح کمپنی میں کلینیکل ریسرچ اینڈ ویکسین ڈیولپمنٹ کے شعبے کے ذمے دار معاون ڈائریکٹر کے منصب پر کام کر ہے ہیں۔

پروفیسر بوقرموح نے "Linkedin" پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر اس پیش رفت سے متعلق پوسٹ میں کہا ہے کہ "علم کی جیت ہو گی"۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ وہ اس ویکسین کی کلینیکل ریسرچ کرنے والی ورکنگ ٹیم کا حصہ ہونے پر انتہائی فخر محسوس کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پروفیسر بوقرموح نے کئی برس دنیا کی بڑی لیبارٹریز میں کلینیکل ریسرچ میں صرف کیے۔ ان میں فرانس کی بوتیرس یونیورسٹی، کینیڈا کی مانٹریال یویونیورسٹی اور سنگاپور میں ماساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ فار ٹکنالوجی ریسرچ نمایاں ترین ہے۔

الجزائری پروفیسر نے 10 سے زیادہ تحقیقی مقالات شائع کیے ہیں جو بین الاقوامی کانفرنسوں میں پیش کیے گئے۔

سلیم بوقرموح نے 1996-1987 کے دوران الجزائر یونیورسٹی سے طب کے شعبے میں تخصص مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے 1998-2001 تک اسی یونیورسٹی سے Microbiology اور Bacteriology سے متعلق طبی مطالعہ مکمل کیا۔ وہ 2007ء میں کینیڈا منتقل ہو گئے جہاں انہوںMCCEE کے امتحان کے جائزے کے لیے کینیڈا کی میڈیکل کونسل کے ساتھ الحاق کیا۔

بوقرموح نے امریکا میں بھی سکونت اختیار کی۔ اس دوران ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کے ذریعے انہوں نے 2014-2015 کے درمیان بین الاقوامی سرٹفکیٹس حاصل کیے۔ عرب سائنس دان نے مختلف منصبوں پر کام کیا۔ سال 2017ء میں وہ "فائزر" کی بین الاقوامی لیبارٹریز میں ویکسین ریسرچ اینڈ ڈیولمپمنٹ کے شعبے میں معاون ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

واضح رہے کہ امریکی دواساز کمپنی "فائزر" اور جرمن دواساز کمپنی "بائیواین ٹیک" نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ ان کی تیار کردہ ویکسین 90% تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ نتائج 40 ہزار سے زیادہ افراد پر کیے گئے تجربات کے بعد سامنے آئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت WHO نے اس کامیابی کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ یہ ویکسین ایک تاب ناک خوش خبری ہے۔