.

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم چل بسے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وزیر خارجہ اور شامی حکومت کی جانب سے پرامن مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی پالیسی کے پرزور حامی ولید المعلم انتقال کر گئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ ولید کی عمر 79 سال تھی۔ خیال رہے ولید طویل عرصے سے شام کے وزیر خارجہ چلے آرہے تھے۔

ان کی موت کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم ان کی صحت گذشتہ کئی سالوں سے ابتر تھی اور وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔

ولید المعلم کو پہلی مرتبہ 2006 میں وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ نائب وزیراعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔

ولید کی وزارت کے دوران شام کا جھکاؤ ایران اور روس کی جانب مزید بڑھ گیا جنہوں نے بشار الاسد کی حکومت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیے۔

ایران اور روس کی مدد سے بشار حکومت نے ملک کا بیشر حصہ جو شدت پسند گروپوں کے قیضے میں گیا تھا چھڑایا۔

تقریبا ایک دہائی قبل شام اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہوا جب اسد کی حکومت نے ان مظاہرین پر ظالمانہ کریک ڈاؤن شروع کیا جو بشار الاسد کی شخصی حکومت کے خاتمے کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔

اس وقت ولید المعلم نے امریکہ اور مغربی ممالک پر ملک میں بے چینی کو ہوا دینے کا الزام لگایا تھا اور مظاہرین کو دہشت گرد قرا دیا تھا۔