یمنی حکومت کی جانب سے حوثی سفیروں کا انٹرپول کے ذریعے تعاقب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اعلان کیا کہ شام میں ان کے سفیر عبداللہ صبری جو یمن کی آئینی حکومت کو مطلوب ہیں نے شام کے دارالحکومت دمشق سے ایک بند سرکٹ ٹیلی ویژن کے ذریعہ تقرری کا حلف لیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کی آئینی حکومت کی جانب سے دو روز قبل بتایا گیا تھا کہ اس نےایران اور شام میں حوثی سفیروں کی انٹرپول کے ذریعے لازمی طور پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی ہے۔

ایک بیان میں یمنی وزارت برائے امور خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے دمشق میں حوثیوں کے نئے اور سابق سفیروں عبد اللہ صبری، نائف القانص اور تہران میں حوثی ملیشیا کے سفیر ابراہیم الدیلمی کی بہ طور سفیر تقرری کو غیر مجاز قرار دینے اور ان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کی کوشش شروع کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمنی حکومت نے مختلف م

مالک سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر تسلیم شدہ حوثی حکوتم کے نام نہاد سفیروں کو نقل وحرکت کی اجازت نہ دیں اور اگر وہ ان کے ملکوں میں داخل ہوں تو انہیں گرفتار کرکےیمن کی دستوری حکومت کے حوالے کریں۔

یمنی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عبداللہ علی صبری ، نائف احمد الکانص اور ابراہیم محمد الدیلمی کی تقرری غیرقانونی ہے اور اس حوالےسے یمنی حکومت نے متعدد ممالک کو سرکلر جاری کرکے ان کے بارے میں بتا دیا ہے۔

اس سرکلر میں حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ حوثی سفیروں نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرنے کے بجائے انہیں اپنے ملک میں داخلے سے روکیں اورانہیں گرفتار کرکے حکومت کے حوالے کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں