.

’’آپ اسرائیل آئیں،آپ یو اے ای تشریف لائیں‘‘:شیخ محمد اوراسرائیلی صدر کی ایک دوسرے کو دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اسرائیلی صدرریووین ریولین کو باضابطہ طور پر اپنے ملک کے دورے کی دعوت دی ہے۔ جواب میں اسرائیلی صدر نے بھی انھیں صہیونی ریاست کے دورے کی دعوت دی ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق اسرائیلی صدر نے شیخ محمد کو ایک خط بھیجا ہے۔اس میں انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور انھیں باہمی مفاد میں مزید فروغ دینے کے طریقوں کے بارے میں لکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’’ اسرائیلی صدر نے اپنے پیغام میں تاریخی امن معاہدے پر دست خط کے لیے کوششوں کو سراہا ہے جن کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔انھوں نے شیخ محمد بن زاید کو اسرائیل کے دورے کی دعوت دی ہے۔‘‘

اس کے جواب میں شیخ محمد نے اسرائیلی صدر ریولین کا ان کے مثبت اور تعمیری مؤقف پر شکریہ ادا کیا ہے۔انھوں نے یواے ای کی جانب سے تعاون کو سراہا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی امن معاہدے طے پایا ہے اور اس سے ان کے بہ قول علاقائی استحکام میں مدد ملے گی۔انھوں نے بھی اسرائیلی صدر کو یواے ای کے دورے کی دعوت دی ہے۔

یو اے ای نے 13 اگست کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور پھر اس کی روشنی میں 29 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا ،اس کے تحت اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ سے متعلق یو اے ای کے قانون کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔اس نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے کوئی ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار کیے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمان نے گذشتہ ماہ یو اے ای کے ساتھ اس امن معاہدے کی توثیق کی تھی جبکہ متحدہ عرب امارات کی وزارتی کونسل نے بھی اس سے پہلے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ معاہدۂ ابراہیم کی منظوری دے دی تھی۔اس کے بعد سے دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف سمجھوتوں پر دست خط کیے ہیں۔

ان میں ایک سمجھوتے کے تحت یو اے ای اور اسرائیل نے ہفتے میں 28 پروازیں چلانے سے اتفاق کیا ہے۔دونوں ملکوں نے گذشتہ ماہ دُہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بھی ابتدائی سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور فروغ ہے۔ایک اور طے شدہ سمجھوتے کے تحت اماراتی شہری اب بغیر ویزا 90 روز کے لیے اسرائیل جاسکتے ہیں۔