.

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کووِڈ-19 کے علاج کی ویکسینوں کے حصول کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ کووِڈ-19 کی اب تک تیار ہونے والی ویکسینوں کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور وہ اب تک 90 فی صد زیادہ مؤثر ثابت ہونے والی ویکسینوں کی تیار کنندہ دواسازکمپنیوں سے حتمی بات چیت کررہے ہیں۔

نیتن یاہو نے ایک نشری تقریر میں ہے کہ ’’جہاں تک ممکن ہو ، وہ زیادہ ذرائع سے زیادہ ویکسینیں حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ انھیں جتنا جلد ممکن ہو، زیادہ سے زیادہ شہریوں کو لگایا جاسکے۔‘‘

اسرائیل نے اب تک کووِڈ-19 کے 324293 کیسوں کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے 2732 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔واضح رہےکہ اسرائیل کی کل آبادی 90 لاکھ نفوس کے لگ بھگ ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے روسی صدر ولادی میر پوتین سے فون پر سوموار کو گفتگو کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے علاوہ روس کی تیارکردہ ویکسین سپوتنک پنجم کی اسرائیل میں دستیابی اور اس کی تیاری کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔

روس نے 9 نومبر کو یہ اطلاع دی تھی کہ اس کی تیار کردہ ویکسین سپوتنک پنجم کرونا وائرس کے علاج کی کلنیکی آزمائش میں 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔اس کی متحدہ عرب امارات میں بھی رضاکاروں پر جانچ کی گئی ہے۔

امریکا کی دوا ساز کمپنی فائزر نے بھی 9 نومبر کو کووِڈ-19 کے علاج کے لیے تیار کردہ ویکسین کے 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ہونےکی اطلاع دی تھی۔فائزر نے جرمنی کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی بائیو این ٹیک کے اشتراک سے یہ ویکسین تیار کی ہے۔

نیتن یاہو نے 13 نومبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے فائزر سے ویکسین کی 80 لاکھ خوراکیں خرید کرنے کے لیے ایک سودے پر دست خط کیے ہیں۔امریکی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر البرٹ بورلا نے اسرائیل کو ویکسین کو مہیا کرنے کے سودے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ امریکا کی ڈرگ اور فوڈ اتھارٹی سے منظوری ملنے کے بھی ویکسین کی کھیپ اسرائیل روانہ کردی جائے گی۔تاہم اس سودے کی اسرائیل کی وزارتِ صحت سے بھی منظوری ضروری ہے۔

امریکا کی ایک اور دواسازکمپنی ماڈرنا نے سوموار کو کووِڈ-19 کی 94۰5 فی صد مؤثر ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے اپنی تیار کردہ ویکسین کی کلینیکی آزمائش کے عمل میں 30 ہزار افراد پر جانچ کی ہے۔اس ویکسین نے کووِڈ-19 کے شدید متاثرہ کیسوں میں مثبت نتائج دیے ہیں۔اس کے آزمائش کے عمل میں 95 متاثرہ مریضوں میں سے 11 شدید کیس سامنے آئے ہیں اور یہ وہ رضاکارتھے جنھیں تجرباتی طور پر نقلی ویکسین لگائی گئی تھی۔

امریکا کی ڈرگ اور فوڈ اتھارٹی کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد ان دونوں کمپنیوں کی ویکسینیں دسمبر میں امریکا میں استعمال کے لیے دستیاب ہوں گی اور ابتدائی طور پر ان کی 6 کروڑ خوراکیں مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی امید ہے۔

واضح رہے کہ فائزر اور ماڈرونا دونوں کی ویکسینیں آر این اے اور ایم آر این اے کی نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر تیار کی گئی ہیں۔اسرائیل پہلے ہی جون میں ماڈرنا سے مستقبل میں اس کی تیار ہونے والا ویکسین خرید کرنے کا سمجھوتا طے کرچکا ہے۔

دنیا بھر میں اب تک کرونا وائرس سے پانچ کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 13 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکےہیں۔ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ سردی بڑھنے کےساتھ کرونا وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔