.

عرب دنیا کو فیروز جیسی لیجنڈ گلوکارہ دینے والے شام کے شہر پر ترکوں نے کب قبضہ کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تقریبا 7 دہائیوں سے عرب دنیا میں مشہور لبنانی گلوکارہ نہاد حداد ہفتہ 21 نومبر کو اپنی 85 ویں سال گرہ منائیں گی۔ وہ فن کی دنیا میں "فيروز" کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی ماں کا تعلق لبنان سے اور باپ کا جنوب مشرقی ترکی کے صوبے ماردین سے ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بہت سی رپورٹوں میں مذکورہ صوبے کی اراضی کو "شام کی مقبوضہ زمین" قرار دیا گیا ہے۔ ترکی نے کمال اتاترک کے زمانے میں فرانس اور برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے "لوزان معاہدے" کی رُو سے اس اراضی کو اپنی حدود میں شامل کر لیا تھا۔ دونوں ممالک پہلی جنگ عظیم میں فاتح رہے تھے۔ معاہدے پر 1923ء میں دستخط کیے گئے۔

ماردین شہر شام کی سرحد سے صرف 25 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ فیروز کے والد ودیع رزق حداد بیسویں صدی کے آغاز پر اسی شہر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے یہاں اپنا بچپن اور لڑکپن گزارا۔ بعد ازاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ لبنان چلے گئے۔ لبنانی دارالحکومت بیروت کے علاقے "زقاق البلاط" میں 21 نومبر 1935ء کو حداد کے گھر بیٹی پیدا ہوئی۔ یہ بچی جوان ہو کر عرب دنیا کی ایک مشہور ترین گلوکارہ بنی جس کو فن کی دنیا آج فیروز کے نام سے جانتی ہے۔

تقریبا 100 برس قبل ماردین کی اکثر آبادی شامی باشندوں پر مشتمل تھی۔ اس وقت ان کی تعداد 10 ہزار کے قریب تھی۔ تاہم اب اس کی آبادی تقریبا 70 ہزار ہے۔ ان میں کرد، سریانی اور شامی مسلمان اور مسیحی عرب اقلیت میں ہے۔

جولائی 1955ء میں فیروز کی عمر 20 برس کے قریب تھی تو ان کی شادی عاصی الرحبانی نامی شخص سے ہو گئی۔

فیروز کی پیدائش لبنان میں ہونے کا سبب یہ ہے کہ ان کے والد حداد ماردین صوبے سے ہجرت کر کے بیروت آ گئے تھے۔ اس ہجرت کی وجہ یہ تھی کہ سلطنت عثمانیہ کے دور میں شام میں بالخصوص ماردین صوبے میں سریانیوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس طرح اقلیت کی حیثیت سے اس علاقے میں ان کی تعداد ڈھائی لاکھ تک رہ گئی۔ بقیہ آبادی نے مستقل طور پر پڑوسی ممالک کا رخ کیا۔ ان ہی افراد میں فیروز کے والد بھی شامل تھے۔

تاہم فیروز کی والدہ 1961ء میں 45 برس کی عمر میں فوت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کے علاوہ 4 بچوں کو چھوڑا۔ ان میں فیروز کے علاوہ دو بہنیں اور ایک بھائی شامل تھا۔ فیروز کے والد کے انتقال کی تاریخ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملتی۔

فیروز کے شوہر عاصی الرحبانی 1986ء میں 63 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے پسماندگان میں فیروز کے علاوہ 4 بچوں (دو بیٹے اور دو بیٹیاں) کو چھوڑا۔

فیروز نے 1964ء میں بیت المقدس کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی میں 25 ایوارڈز حاصل کیے۔