.

کیا امریکا حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے والا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر کی انتظامیہ اس بات کی تیاری کر رہی ہے کہ جنوری میں ٹرمپ کے کرسی صدارت سے رخصت ہونے سے قبل یمن میں ایران کی حمایتہ یافتہ حوثی ملیشیا کو ایک دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے دیا جائے۔ بات امریکی جریدے Foreign Policy نے بتائی ہے۔

ایک طرف اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں ٹرمپ انتظامیہ کو اس بات سے باز رکھنے کی کوششیں کر رہی ہیں کہ وہ حوثی ملیشیا کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے۔ دوسری جانب یہ فیصلہ ایران مخالف حکمت عملی میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ایک اور اہم کامیابی ہو گی۔

امریکی جریدے نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ "یہ لوگ اس بارے میں کافی عرصے سے سوچ رہے تھے تاہم پومپیو اس عمل کو تیز کرنا چاہتے ہیں جو امریکی انتظامیہ کی پالیسی کا حصہ ہے"۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جائے۔ گریفتھس نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے اپیل بھی کی کہ وہ پومپیو پر اثر انداز ہونے کے لیے مداخلت کریں۔

گذشتہ ماہ گوٹیرس نے اقوام متحدہ میں امریکی خاتون سفیر کیلی کرافٹ پر زور دیا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے منصوبے پر نظر ثانی کریں۔ اسی طرح جرمنی اور سویڈن نے بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے فیصلے سے رجوع کر لے۔ تاہم ایسا نظر آ رہا ہے کہ یہ تمام کوششیں بے فائدہ رہیں اور اب اقوام متحدہ اس حوالے سے امریکی فیصلے کے لیے بنیاد تیار کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب پہلے ہی تہران نواز حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔