.

اسرائیل نے شام میں ایرانی 'القدس فورس' کو نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک نے شام میں فضائی حملے کیے ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران بارہا حملوں کی کارروائیوں کے باوجود اسرائیل کی جانب سے اس طرح کا اعلان شاذ و نادر ہی سامنے آیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائے ادرعے نے بدھ کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا کہ مذکورہ حملوں میں ایرانی القدس فورس اور بشار حکومت کی فوج کو نشانہ بنایا گیا۔ نشانہ بننے والے مقامات میں اسلحہ ڈپوز، عسکری کمان کے مراکز اور عسکری کمپاؤنڈز کے علاوہ زمین سے فضا میں مار کرنے والی بیٹریاں شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ایک گروپ کی جانب سے گولان کی سرحد پر دھماکا خیز مواد کی پوری فیلڈ بچھانے کے جواب میں کی گئی۔ گروپ نے یہ کارروائی ایران کی ہدایت پر کی۔

ترجمان نے زور دے کر کہا کہ "اسرائیل شام کی اراضی سے کی گئی کسی بھی کارروائی کا ذمے دار شامی حکومتی فوج کو ٹھہراتا ہے۔ اسرائیلی فوج ضرورت کے مطابق شام میں ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ ایران کا یہ وجود علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے"۔

اس سے قبل شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA نے بتایا تھا کہ شامی فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت دمشق کی فضاؤں میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا راستہ روکا۔ مزید یہ کہ اسرائیلی حملوں میں 3 شامی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

یہ کارروائی اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹس کے بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی۔ بیان میں انہوں نے دمشق کو ان بارودی سرنگوں کا ذمے دار ٹھہرایا جو منگل کی صبح شام کے ساتھ سرحد پر مقبوضہ گولان کے علاقے میں ملی تھیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی نامعلوم طیاروں نے غالب گمان ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے تھے ،،، شام کے صوبے الرقہ کے جنوب مشرق میں معدان عتیق کے دیہی علاقے پر حملے کیے تھے۔ یہاں شامی اور غیر شامی جنگجوؤں پر مشتمل ایران نواز ملیشیائیں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں علاقے میں داعش تنظیم بھی سرگرم ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے عہدے داران نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل ،،، شام میں ایران کے خلاف اپنی مہم جوئی کا دائرہ وسیع کرے گا۔

اسی طرح گذشتہ ماہ اسرائیلی حملوں میں شمالی قنیطرہ کے گاؤں الحریہ میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور ایرانیوں کے زیر انتظام گروپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

حالیہ برسوں میں اسرائیل نے شام میں بم باری کا عمل بڑھا دیا ہے۔ اس دوران بنیادی طور پر شام کے فوجی ٹھکانوں، ایرانی اہداف اور حزب اللہ کے مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ البتہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے شاذ و نادر ہی ان حملوں کی تصدیق کی جاتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایک سے زیادہ مرتبہ باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک ایران پر پیشگی حملوں کو خار از امکان نہیں قرار دیتا تا کہ اسرائیل کی شمالی سرحد کے نزدیک ایران کو پوزیشن لینے سے روکا جا سکے۔

رواں سال ستمبر کے وسط میں امریکی چینل "فوکس نیوز" پر نشر کی گئی اسرائیلی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ شام میں ایرانی فورسز اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل نے 200 فضائی حملے کیے۔ ان میں سب سے زیادہ حزب اللہ ملیشیا کے ارکان متاثر ہوئے۔