.

حزب اللہ بریگیڈز: عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کی طرز کی ملیشیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چند برسوں کے دوران عراق میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ بریگیڈز کی اولین ترجیحات نوجوانوں کو اپنی تنظیم میں شامل کرنا اور عراقی معاشرے میں اپنا نفوذ مضبوط بنانا ہے۔

بریگیڈز نے امام حسین اسکاؤٹس سوسائٹی قائم کی جو سماجی سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ اس کا مقصد مستقبل کے لیے وفادار اور ہمنوا عناصر کو بھرتی کرنا ہے۔ علاوہ ازیں حزب اللہ بریگیڈز نے امریکی افواج کی جاسوسی کے واسطے بھی نوجوانوں کو بھرتی کیا ہے۔ اسی طرح ایران اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں پر تنقید کرنے والی ہر آواز کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں "صابرين نيوز" چینل نے 21 اگست کو ٹیلی گرام پر ایک وڈیو پوسٹ کی۔ وڈیو میں صراحت کے ساتھ عراقیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ بریگیڈز کے ذیلی گروپوں میں شمولیت اختیار کریں۔ اس وڈیو کو ستمبر کے اوائل میں حذف کر دیا گیا تاہم اس وقت تک وڈیو کو 14400 بار دیکھا جا چکا تھا۔

ذرائع کے مطابق حزب اللہ بریگیڈز ایران کے ساتھ مربوط اُن مسلح ملیشیاؤں میں سے ایک ہے جو عراق میں بھرپور طور پر سرگرم ہیں۔ تاہم وہ بڑے عرصے سے عراقی حکومت کی خواہشات کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ بریگیڈز کے زیر کنٹرول بعض علاقے ایسے ہیں جہاں حکومتی ذمے داران کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔

دیالیٰ صوبے میں مقامی سیکورٹی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ حزب اللہ بریگیڈز کے بعض یونٹ پہلے ہی الحشد الشعبی میں ضم ہو چکے ہیں جو عراقی حکومت سے تنخواہوں تقاضا کر رہے ہیں۔ تاہم بریگیڈز کے دیگر جنگجوؤں نے عراق سے ایران اور شام آمد و رفت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب عراقی سیٹیزن شپ پروجیکٹ کے سربراہ غیث التمیمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ حزب اللہ بریگیڈز نے عراق میں واقعتا ایک ایسا حلقہ قائم کر لیا ہے جس کو کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس حلقے میں قبائلی عمائدین بھی شامل ہیں جن کو بریگیڈز نے اپنے خاص مفادات کی تکمیل کے لیے بھرتی کیا ہے۔ بریگیڈز نے عراقی معاشرے میں پِسے ہوئے طبقے کے نوجوانوں کو جن میں اکثریت ناخواندہ افراد کی ہے بھرتی کیا اور پھر انہیں تربیت کے لیے ایران منتقل کیا۔

التمیمی نے واضح کیا کہ اکتوبر 2019ء میں شروع ہونے والی نوجوانوں کی انقلابی تحریک کا مقصد حزب اللہ بریگیڈز کے قائم کردہ نظام کا سقوط تھا۔ اس کا مقصد مذکورہ نظام کے اثرات کو کم کرنا اور تمام شہریوں کے لیے جامع عراقی شناخت کی یاد دہانی کرانا تھا۔ اس تحریک کے بعد عراقیوں کے سامنے یہ بات آئی کہ حزب اللہ ایک غدار تنظیم ہے۔ یہاں تک کہ وہ عراق میں مذہبی مراجع کو بھی کسی طور خاطر میں نہیں لاتی ہے۔

غیث التمیمی کے مطابق حزب اللہ بریگیڈز نے عراق کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں مظاہروں میں شریک نوجوانوں کے خلاف قتل اور اغوا کے حربوں کا استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں عراق کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں حقیقی طور پر ایرانی نظام کو مسترد کرنے کا رجحان نمایاں ہوا۔

دوسری جانب تزویراتی تجزیہ کار اور مسلح جماعتوں کے امور کے ماہر رعد ہاشم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حزب اللہ بریگیڈز نے نوجوان طبقے کا استحصال کیا اور بے روز گاری کے پھیلاؤ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنے مقاصد پورے کرنے کے واسطے بھرتی کیا۔

جیہان یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر مہند الجنابی نے واضح کیا کہ حزب اللہ بریگیڈز اُن گروپوں میں سرفہرست ہے جو عراقی حکومت اور اس کے حلیفوں پر دباؤ کے لیے ایران پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ عناصر بزور طاقت ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ الجنابی کے مطابق خطرے کی بات یہ ہے کہ ایران عراق میں بھی پاسداران انقلاب کی طرز کی ملیشیا کو جنم دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق میں پاسداران انقلاب جیسا تجربہ سماجی امن اور آزادی کے لیے خطرہ ہے۔

بین الاقوامی قانون کے پروفیسر رائد العزاوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ حزب اللہ بریگیڈز اپنے منصوبوں کے حوالے سے خاصی سرگرم ہے۔ ان کا مقصد عراق کے صوبوں صلاح الدین، نینویٰ، حزام، بغداد اور دیالیٰ میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔