.

یمن میں جنگ کے رُکنے کا آغاز ایرانی مداخلت کے رُکنے کے ساتھ مربوط ہے : معمر الاریانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ یمن میں جنگ کے خاتمے کا راستہ ایرانی مداخلت کے روکے جانے اور حوثی ملیشیا پر دباؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے تا کہ ملیشیا امن عمل میں سنجیدگی کے ساتھ شامل ہو۔ انہوں نے باور کرایا کہ اس امر کو سیاسی اور عسکری دباؤ کے بغیر یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

جمعرات کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں الاریانی نے واضح کیا کہ یمن کی جنگ 2014ء میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاست پر شب خون مارنے کے نتیجے میں بھڑک اٹھی۔ جنگ کے برسوں میں حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں کے خلاف سامنے آنے والی کارستانیوں کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے ملک کو بدترین انسانی المیے سے دوچار کر دیا۔

یمنی وزیر اطلاعات کے مطابق جنگ کے ان برسوں سے یہ بات واضح طور پر سامنے آ گئی کہ ایران حوثیوں کی بغاوت کی تدبیر اور انہیں مالی سپورٹ کے علاوہ ہتھیاروں کی کھیپوں اور پالیسی ماہرین کی فراہمی میں ملوث ہے۔ اس کا مقصد یمن کے جغرافیا پر تہران کی گرفت کو مستحکم کرنا ہے۔ علاوہ ازیں ایران یمن کو ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جہاں سے مملکت سعودی عرب کو نشانہ بنایا جا سکے اور ساتھ ہی آبنائے باب المندب اور بحر احمر میں بین الاقوامی آبی گزر گاہوں کو خطرے میں ڈالا جا سکے۔

معمر الاریانی نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں کے خلاف کارروائیاں، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی، پڑوسی ممالک پر حملے، بین الاقوامی جہاز رانی کے امن کے لیے خطرہ بننا اور تشدد اور نفرت پر مبنی نعرے ،،، ملیشیا کو اس بات کا مستحق ٹھہراتے ہیں کہ اسے ایک "دہشت گرد تنظیم" قرار دیا جائے۔