.

القاعدہ تنظیم نے ایران میں ابو محمد المصری کے قتل کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں "حراس الدین" تنظیم اور القاعدہ تنظیم کے زیر انتظام پلیٹ فارمز اور میڈیا چینلوں نے آخر کار تین ماہ بعد اپنے کمانڈر "ابو محمد المصری" کے قتل پر تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے اس کی ایران میں موت کی تصدیق کر دی ہے۔ المصری "قاعدة الجهاد" تنظیم کے بانیوں میں سے ہے۔ یہ القاعدہ تنظیم کی جانب سے سرکاری طور پر پہلا اعتراف ہے کہ تنظیم کے بعض رہ نما ایرانی سرزمین پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ ایرانی وزارت خارجہ اس بات کی تردید کر چکی ہے۔

البتہ تعزیتی بیان میں المصری کی بیٹی مریم جو حمزہ بن لادن کی بیوہ ہے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی اور امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مریم بھی اپنے والد کے ساتھ ہلاک ہو گئی تھی۔

مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم شیخِ مجاہد ابو محمد المصری کی شہادت پر مسلم امّہ کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔ شیخ نے تیس برس سے زیادہ عرصہ ہجرت، جہاد اور قید و بند کی صعوبتوں میں گزارے .. شیخ اسامہ بن لادن انہیں دشوار اور خطرناک مشنوں کی ذمے داری سونپا کرتے تھے۔ ان میں نمایاں ترین کارروائی 1998ء میں نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارت خانوں پر کیے گئے حملے تھے۔ شیخ رحمہ اللہ نے ایران میں تقریبا 16 برس رافضیوں کی جیلوں میں گزارے یہاں تک کہ وہ چیز (شہادت) پا لی جس کی انہیں تمنا تھی"۔

دریں اثنا شام میں القاعدہ تنظیم کے پروپیگنڈا پلیٹ فارمز نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹیلیگرام پر پہلی مرتبہ تنظیم کے اردنی کمانڈر خالد العاروری عُرف ابو القسام الاردنی کی وڈیو ٹیپ جاری کی ہے۔ الاردنی حراس الدین تنظیم کا نائب سربراہ اور ابو مصعب الزرقاوی کا ساتھی اور بہنوئی بھی ہے۔

الاردنی 2006ء میں ابو مصعب الزرقاوی کی موت سے قبل اس کا نائب تھا۔ وہ ایرانی سرحد کے نزدیک واقع افغانستان کے شہر ہرات میں الزرقاوی کے کیمپ کا عسکری کمانڈر بھی تھا۔ وہ الزرقاوی کے اس وفد میں شامل تھا جس نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد ایران کا دورہ کیا تھا۔ بعد ازاں الزرقاوی 2003ء میں شام کی سرحد کے راستے عراق واپس آ گیا تھا۔

الاردنی 2015ء تک ایران میں رہا اور پھر القاعدہ کے دیگر رہ نماؤں کے ساتھ شام منتقل ہو گیا۔ انہوں نے شام میں القاعدہ تنظیم کی شاخ "النصرہ فرنٹ" کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی قیادت کی۔

ان افراد میں ابو الخیر المصری (الظواہری کا نائب) جو 2017ء میں شام کے شہر ادلب میں ایک ڈرون طیارے کے حملے میں مارا گیا، اردن کا سامی العریدی اور حراس الدین تنظیم کا سربراہ اور عسکری کمانڈر اید الطوباسی عُرف ابو جلیبیب الاردنی شامل تھے۔

ابو القسام الاردنی کی وڈیو کچھ عرصہ قبل شام اور افغانستان میں القاعدہ تنظیم کے متعدد کمانڈروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئی۔ ان میں افغانستان میں القاعدہ تنظیم کی مجلس شوری کا اہم رکن حسام عبدالرؤوف عُرف "ابو محسن المصری" اور القاعدہ تنظیم کے اندر قیادت اور شوری کی مجلس کا رکن ابو محمد السودانی نمایاں ترین ہیں۔

الاردنی نے اپنی وڈیو میں کہا کہ "ہمارا معکرہ ایک دو روز یا ایک دو برس کا نہیں .. ہمارا معرکہ شام اور عراق میں نہیں .. ہمارا معرکہ اب اس پوری سرزمین پر ہے اور اس میں پوری امت شامل ہے .. ہمارا معرکہ سب لوگوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ زمین پر اللہ کی شریعت نافذ ہو جائے .. ایک نسل اس پرچم کو اگلی نسل کے حوالے کرے گی .. یہ کبھی گرے کا نہیں یہاں تک کہ ہم اسے امام مہدی کے حوالے کر دیں گے ان شاء اللہ .. ہمارا معاملہ بشار کے ساتھ نہیں بلکہ بشار سے کہیں بڑا ہے .. ہمارا معاملہ پوری امت کافرہ کے ساتھ ہے"۔