.

میڈیکل ڈاکٹر اور آزاد خیال ایمن الظواہری کو القاعدہ میں کس نے بھرتی کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند دن قبل سوشل میڈیا بالخصوص القاعدہ کے مسنلک عناصر جن 'حراس الدین' تنظیم بھی شامل ہے نے ایک پوسٹ شائع کی جس میں دعویٰ‌کیا گیا کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری جگر کے کینسر کے نتیجےمیں انتقال کر چکے ہیں۔

ایمن الظواہری کو سنہ 2011ء‌کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی مبینہ ہلاکت کے بعد القاعدہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

تنظیم اور تمام مختلف ذرائع ابلاغ الظواہری ان کی زندگی ، ان کی شادیوں اور ان کے نظریات کے بارے میں تفصیلات شائع کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی کا ایک پہلو بہت کم لوگوں کی نظروں سے گذرا۔ وہ یہ کہ ایک میڈیکل ڈاکٹر اور کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے والا شخص کس کے کہنے پرالقاعدہ جیسے بنیاد گروپ میں بھرتی ہوا۔

مصرمیں ایمن الظواہری کا خاندان امرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ ایمن الظواہری کے دماغ میں دہشت گردی اور القاعدہ میں‌شمولیت کے بیج کس نے بوئے۔ الظواہری کا خاندان مشرقی گورنری میں‌رہائش پذیر ہے۔ یہ گورنری علما اور کئی سینیر ڈاکٹروں کی جائے پیدائش ہے۔ جامعہ الازھر کے ایک سابق سربراہ بھی اسی گورنری سے تعلق رکھتےتھے۔

تنظیم الجہاد کے سابق امیر الجیوش عبدالرئوف جو القاعدہ کے سربراہ کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ الظواہرہ سنہ 1970ء میں جہادی گروپوں کا حصہ بنے۔ بعد میں‌انہوں‌نے سنہ 1975ء میں میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم مکمل کی۔ اس وقت ایک سلفی جہادی گروپ سرگرم تھا جس میں عصام القمری بھی شامل تھے ایمن الظواہری کے ساتھ تعلیم بھی حاصل کررہے تھے۔ القمری بھی طب کا طالب علم تھا جو بعد میں‌فوج میں‌بھرتی ہوا۔ مقتول مصری صدر انور سادات کے قتل میں‌ملوث ملزمان میں ایک نام عصام القمری کا بھی لیا جاتا ہے۔ اسی گروپ میں ایک حسن الھلاوی تھا۔ یہ آپس میں مساجد میں ملتے اور جہادی لٹریچر تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دائرے میں مزید نوجوانوں کو بھی شامل کرتےتھے۔

طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد الظواہری نے ایک جنگجو جہادی سے ملاقات کی۔ یہ جہادی کمانڈر آج کل ایک یورپی ملک میں‌سیاسی پناہ لینے کےبعد وہاں پر رہ رہا ہے۔ اس نے ایمن الظواہری کو افغانستان میں عرب مجاھدین کے ساتھ شامل ہونے اور افغانستان کے سفر پرقائل کیا۔ اس وقت القاعدہ اور دوسرے عرب جنگجو افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف سرگرم عمل تھے۔

مگر یہ سوال اپنی جگہ پھربھی موجود ہے کہ وہ شخص آخر کون تھا جس نے ایمن الظوہری کو قائل کیا۔ اس کے کہنے پرالظواہری نے عیش کی زندگی ترک کرکے جہادیوں کے ساتھ افغانستان جانے کافیصلہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی تحقیق کے مطابق وہ شخص جس نے الظواہری کو القاعدہ میں بھرتی کیا وہ اسماعیل الطنطاوی تھا۔ الطنطاوی آج کل ایک یورپی ملک میں‌رہتا ہے۔ گذشتہ صدی کے پانچویں اور چھٹے عشرے کے دوران مصر میں جہادی نیٹ ورک قام کرنے والے جن تین ناموں‌کا تذکرہ ملتا ہے ان میں ایک اسماعیل الطنطاوی بھی ہیں۔۔ اس کے علاوہ اس کے دوسرے دو ساتھیوں کی شناخت علوی مصطفیٰ اور نبیل البرعی کے ناموں سے کی جاتی ہے۔آخر الذکر دونوں طب کے طالب علم تھے

اسماعیل طنطاوی نے جامعہ الازھر سے انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ وہ چونکہ خود بھی جہاد فکر سے وابستہ تھا۔ اس لیے اس نے ایمن الظواہری کو بھی اس میں شامل کیا۔ الظواہری کے علاوہ اس نے مصطفیٰ یسری،حسن الھلاوی کو بھی جہادی تنظیم سے وابستگی پر قائل کیا۔ ایمن الظواہری اور اس کے ساتھیوں کی میل ملاقات مسجد میں ہوتی۔ زیادہ تر وہ قاہرہ میں مسجد جماعت انصار السنہ میں‌ملتے۔ یہ سب الشیخ محمد خلیل ھراس کے افکار سے متاثر تھے۔

ایمن الظواہری، اسماعیل الطنطاوی اور نبیل البرعی کی دوستی پکی ہوگئی اور وہ بہ کثرت ملاقاتیں کرنے لگے۔ اسماعیل دوسرے دو ساتھیوں کے لیے ایک رہ نما کا درجہ رکھتے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد جہادی فکر اور القاعدہ میں شمولیت کے الظواہری کو اسماعیل طنطاوی ہی نے قابل کیا تھا۔

طنطاوی کے کہنے پر ایمن القاعدہ میں بھرتی ہو کر افغانستان پہنچ گئے جہاں ان کی ملاقات اسامہ بن لادن سے ہوئی۔ وہ تقرینا ایک سال افغانستان میں رہے۔

مذہبی تحریکوں کے امور کے ماہر عمرو عبدالمنعم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کو بتایا کہ اسماعیل طنطاوی کے کہنے پرالظواہری القاعدہ میں شامل ہوئے مگر ساتھ ساتھ وہ الشیخ‌محمد خلیل ھراس کے درس میں‌بھی شامل ہوتے اور ان سے جہادی افکار سیکھتے۔ اس طرح الظواہری نے جہادی تنظیم میں شمولیت تو اسماعیل طنطاوی کے کہنے پرکی مگر اس میں جہادی نظریات کی فکر الشیخ ھراس نے ڈالی۔

سنہ ساٹھ کے عشرے میں مصر میں تین جہادی تنظیمیں تھیں۔ پہلی تنظیم اسماعیل طنطاوی نے قائم کی، دوسری علوی مصطفیٰ اور تیسرا گروہ قاہرہ اور الجیزہ میں قائم تھا جس کی قیادت یحییٰ ھاشم اور رفاعی سرور کررہے تھے۔ رفاعی سرور کا ایک بیٹا عمر رفاعی ابو عبداللہ المصری کی کنیت سے مشہور ہوا جسے القاعدہ میں مفتی کا درجہ دیا گیا تھا۔ عمر الرفاعی نے القاعدہ میں مفتی کا مقام ایمن الظواہری اور لیبیا میں مجاھدین درنہ کی مجلس شوریٰ‌کے رکن دہشت گرد ھشام عشماوی کی قربت سے فائدہ اٹھا کرحاصل کیا تھا۔

مصر میں دوسرا گروپ مصطفیٰ‌یسری اور حسن الھلاوی کا تھا تاہم اسماعیل طنطاوی نے الظواہری کو پہلے نبیل البرعی کے گروپ میں شمولیت پرقائل کیا تھا۔ الظواہری کے ساتھ عصام القمری بھی جہادی گروپ میں شامل ہوئے۔ القمری نے مزید بھرتیوں کی مہم جاری رکھی اور عبدالعزیز الجمل اور سید موسیٰ‌اس کے کہنے پر جہادی گروہ کا حصہ بنے۔