.

ایران سے متعلق امریکی پالیسی مسلمہ ہے: پومپیو

’’چند اور عرب ممالک اسرائیل سے امن معاہدے کو تیار ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ابوظبی میں ’العربیہ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پومپیو کا کہنا تھا ’’واشنگٹن خطے میں قیام امن کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘‘

مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے ممالک ایران کے مشترکہ خطرے کو جان گئے ہیں۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کے حوالے سے ان کے ملک کی پالیسی مسلمہ ہے، اس میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔

انھوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنی اسٹرٹیجی میں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اتحاد تشکیل دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تہران کو خطے کے استحکام کو تہہ وبالا کرنے سے باز رکھنے کے لیے ایک اتحاد بنا رکھا ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے گا۔

انھوں نے اس ضمن میں مزید عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم فلسطینیوں کو اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی قیادت اس اسے انکاری ہے۔‘‘

عراق اور ایرانی ملیشیائیں

عراق کے حوالے سے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ واشنگٹن وہاں استحکام کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول ’عراقی، خود کو ایران کے زیر تسلط رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔‘

انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عراقی سرزمین پر امریکی فوج کی موجودگی کا مقصد مصطفی الکاظمی کی حکومت کی حمایت ہے۔

عراق میں امریکا اقدامات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں سرگرم ایرانی ملیشیاؤں کے خلاف اقدامات ہم آگے چل کر اٹھائیں گے۔

داعش اور دہشت گردی سے متعلق مائیک پومپیو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ’’کہ ہمارے تشکیل کردہ اتحاد کے نتیجے میں عراق اور شام میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش کا قلع قمع ہو گیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ گذشتہ ہفتے سات ممالک کے دورے پر روانہ ہوئے تھے۔ ان کے بیرون ملک دورے کا آغاز فرانس سے ہوا، جہاں سے وہ ترکی، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات پہنچنے ہیں۔

اپنے ان دوروں میں انھوں نے ایران کے معاملے پر فوکس کیے رکھا۔ ان نے بتایا کہ امریکا آئے والے ہفتوں اور مہینوں میں تہران پر نئی پابندیاں عاید کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔