.

ایرانی القدس ملیشیا کی سربراہ اسماعیل قاآنی کی غیراعلانیہ دورے پر بغداد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے ایک ذمہ دار اور باوثوق ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں کی ذمہ دار القدس ملیشیا کے سربراہ اسماعیل قاآنی گذشتہ منگل سے بغداد میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق قاآنی نے یہ دورہ خفیہ رکھا ہے اور اس کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جنرل اسماعیل قاآنی نے اپنےدورہ بغداد کے دوران متعدد عراقی عہدیداروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ایرانی القدس ملیشیا کے سربراہ نے عراق کی جن شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں ان میں ایران نواز عسکری گروپوں کے لیڈر بھی شامل ہیں۔

اخبار'الشرق الاوسط' کے مطابق اسماعیل قاآنی امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل عراق میں جنگ بندی کے اعلان کو مزید آگے بڑھانےپر بات چیت کے لیے آئے ہیں۔ حال ہی میں ایک دوسرے ذریعے نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے مشرق وسطیٰ ‌میں اپنے حامی گروپوں کو عارضی طور پر اشتعال انگیز کارروائیوں سے روک دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسماعیل قاآنی کی بغداد آمد کا مقصد عراق کے عسکری گروپوں کو جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دینا ہے حالانکہ گذشتہ ہفتے بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانے پر ایک بار پھر راکٹ داغ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے جانشین اسماعیل قاآنی نے عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی سے بھی ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم الکاظمی کی طرف سے ان کے لیے ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقعے پر جنرل قاآنی نے مصطفیٰ الکاظمی کو ایرانی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین لایا۔

درایں اثنا عراق میں فتح اتحاد کے رہ نما غضنفر البطیخ نے ایک بیان میں‌ کہا ہے کہ ایران کی مدد سے عراق کے مسلح گروپوں اور امریکیوں کے درمیان جنگ بندی درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مزید کوئی نئی جنگ بندی نہیں ہے تاہم حالات کو پرسکون رکھنے کی ہرکوئی کوشش کر رہا ہے۔

قاآنی کے غیراعلانیہ دورہ بغداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے البطیخ نے کہا کہ قاآنی کی آمد کا مقصد عراق میں امریکی وجود پر بات چیت کرنا بالخصوص امریکی فوج کی تعداد میں مزید کمی کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تہران اور بغداد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔