.

نصاب کو انتہا پسندی سے پاک کرنے لیے اس پرنظر ثانی کی گئی: سعودی وزیر تعلیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب وزیر تعلیم حمد آل الشیخ نے 'العربیہ' ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت میں ہائبرڈ تعلیم کے لیے مختلف ماڈل زیرغور ہیں۔ اس حوالے سے وہ وزارت صحت کی ہدایات کے منتظر ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ "جی 20 ورچوئل سمٹ" میں تعلیم کے حوالے سے پیدا ہونے والے بُحرانوں اور آفات کے دوران تعلیم کے تسلسل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے بحران کے وقت تعلیم کے بارے میں بات کرنے کے لیے جی 20 سربراہی اجلاس میں ایک مباحثہ اجلاس میں کہا کہ کرونا کے دوران تعلیم جاری رکھنے میں بڑے ممالک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور یہ کہ "بچوں کی تعلیم" سب سے بڑا چیلنج تھا۔

حمد آل الشیخ نے سعودی عرب میں نصاب تعلیم کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اپنے نصاب پر نظرثانی کی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ انتہا پسندانہ نظریات سے پاک ہے۔

سعودی وزیر نے جی 20 ممالک کو کورونا بحران کے دوران تعلیم کے بارے میں اپنے ملک کے تجربے سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ہم نے کرونا کے دوران سعودی عرب میں اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہماری ترجیح انسانی حفاظت تھی۔ ہم نے کرونا بحران کے دوران تعلیم کو سیٹلائٹ اور الیکٹرانک چینلز پر منتقل کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یونیورسٹیوں میں وبا کے دوران تدریس کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔چند ہفتوں کے اندر ہی مملکت فاصلاتی تعلیم کے لیے الیکٹرانک انفراسٹرکچر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فاصلاتی تعلیم کے ایک سے زیادہ منصوبے موجود ہیں۔

آل الشیخ نے وضاحت کی کہ سعودی عرب میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے لاکھوں طلباء نے آن لائن ایپلی کیشن "مدرستی" سے فائدہ اٹھایا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر حمد بن محمد آل الشیخ نےاتوار کے روز الریاض میں جی 20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر میڈیا بریفنگ میں بتائی ہے۔انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد تدریسی عمل کو جاری رکھنے کے لیے مدرستی پروگرام شروع کیا تھا۔اس ایپ کے ذریعے سرکاری اسکولوں کے 48 لاکھ طلبہ اور نجی اسکولوں کے چھے لاکھ طلبہ نے آن لائن تعلیم جاری رکھی ہوئی ہے۔

ان کی بریفنگ کا عنوان’’بحران کے دورمیں تعلیم کا تسلسل‘‘تھا۔انھوں نے کہا کہ ’’کووِڈ-19 کی وجہ سے فاصلاتی تدریس اور ای تعلیم کا تصور تبدیل ہوچکا ہے۔اس بحران نے پوری دنیا کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر آل الشیخ نے کووِڈ-19 کے بحران کے نتیجے میں تعلیمی نظام میں ہونے والی اساسی تبدیلیوں کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔انھوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس وقت مکمل طور پر آن لائن تعلیمی سرگرمیوں کے حامل اداروں کو کھولا جاسکتا ہے اور اسکول اپنے یہاں اساتذہ کی بہت تھوڑی تعداد کے ساتھ تدریسی عمل جاری رکھ سکتے ہیں۔