سعودی کابینہ کی جانب سے حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کے روز کابینہ کے ایک ورچوئل اجلاس کی صدارت کی۔

کابینہ نے ایک بار پھر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کی۔ کابینہ نے باور کرایا کہ باغی ملیشیا یہ دہشت گرد کارروائیاں ایران کی سپورٹ کے ساتھ کر رہی ہے۔

کابینہ نے زور دیا کہ سعودی عرب حوثیوں کی تخریبی دہشت گرد کارروائیوں اور اس کی پشت پر موجود عناصر پر روک لگائے گا۔ اس لیے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف سعودی قومی تنصیبات بلکہ عالمی معیشت کی شہہ رگ اور اس کی ترسیل کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ادھر سعودی عرب نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ پیر کے روز جدہ میں پٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کے اسٹیشن پر ہونے والے حملے کے پیچھے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا ہاتھ ہے۔ سعودی عرب نے سلامتی کونسل سے مملکت پرحملے روکنے کے لیے حوثیوں پر دباو ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا۔ العربیہ کے مطابق سلامتی کونسل میں سعودی عرب کے خصوصی مندوب عبداللہ المعلمی نے کونسل کے 15 رکن ممالک کو مکتوب ارسال کیے ہیں جن میں سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے حوالے سے حوثی باغیوں کو قصور ٹھہرایا گیا ہے۔ مکتوب کہا گیا ہے کہ مملکت میں تیل کی تنصیبات پر حملوں میں حوثی ملوث ہیں۔ حوثیوں کے حملوں سے نہ صرف سعودی عرب کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ان سے عالمی توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ حوثیوں نے یمن کے ساتھ سعودی عرب اور دوسرے ممالک کی قومی سلامتی بھی داو پر لگا دی ہے۔ سعودی سفیر نے کہا کہ جدہ میں سوموار کے روز ہونے والے حملے کے پیچھے ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت حوثی دہشت گردوں کو مملکت کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔

دوسری جانب امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن کا کہنا ہے کہ امریکا یمن میں حوثی ملیشیا سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے گا۔ اوبرائن کے مطابق ایران نواز حوثی تنازع کے خاتمے کے لیے امن عمل میں نیک نیتی سے داخل ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ واشنگٹن حوثی ملیشیا کو مستقل طور پر دہشت گرد جماعت قرار دینے پر غور کر رہا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ پڑوسی ممالک پر حملوں کا سلسلہ روک دیں اور یمن کے مفاد کی خاطر ایران سے دور رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں