.

ایران کے ’’پر اسرار‘‘ ایٹمی سائنسدان تہران میں قتل کر دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایٹمی اور میزائل سازی کے سائنس دان محسن فخری زادہ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا ہے کہ ایک سائنس دان، جن پر اسرائیل نے الزام لگایا کہ انہوں نے سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایک فوجی جوہری پروگرام کی قیادت کی تھی کو 'قتل کردیا گیا ہے۔'

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعے کو ذرائع کے حوالے سے محسن فخری زادہ کے قتل کی تصدیق کی ہے۔
پاسداران انقلاب کی ہم خیال نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’’فارس‘‘ نے بتایا کہ یہ حملہ دارالحکومت تہران کے مشرق میں ایک چھوٹے سے شہر آبسرد میں پیش آیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق 'اس حملے میں اس کار کو نشانہ بنایا گیا جس میں محسن فخری زادہ موجود تھے۔'

ایک اور نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے مطابق محسن فخری زادہ اور ان کے محافظوں پر دارالحکومت تہران کے باہر گھات لگا کر فائرنگ کرنے سے قبل 'دہشت گردوں نے ایک اور گاڑی دھماکے سے اُڑائی۔' محسن فخری زادہ نے ایران کے نام نہاد 'عماد' یا 'ہوپ' پروگرام کی قیادت کی تھی۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ 'عماد' پروگرم 2000 کی دہائی کے شروع میں ختم ہو گیا تھا۔ اس کے انسپکٹرز ان ایران کی ایٹمی سائٹس کا معائنہ کرتے ہیں۔ ایران کا یہ طویل عرصے سے دیرینہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے فوجی مشیر نے محسن فخری زادہ کے قاتلوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جو گاڑی پر مسلح افراد کی فائرنگ کے بعد ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ایک فوجی کمانڈر حسین دیہگن نے ٹویٹ کی کہ 'ہم مظلوم شہید کے قاتلوں کو بھرپور جواب دیں اور انہیں اس کارروائی پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔'

مغربی ممالک محسن فخری زادہ کو عرصہ دراز سے 2003 میں روکے گئے ایران کے ایک خفیہ ایٹمی پروگرام کا منصوبہ ساز قرار دیتے رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ تہران پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ خفیہ طور پر اسے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ایٹمی توانائی کے حصول کی کوششوں کی تردید کرتا رہا ہے۔

مغرب محسن فخری زادہ کو طویل عرصے سے ایران کے خفیہ ایٹمی پروگرام کا ماسٹر مائنڈ سمجھتا رہا ہے۔ ان کی ہلاکت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے آخری ہفتوں میں ایران اور اس کے مخالفین کے مابین تنازع پیدا ہونے کا امکان ہے۔

صدر ٹرمپ جو 3 نومبر کو دوسری مدت کے لیے صدارتی انتخاب میں کامیاب نہیں ہو سکے اور آئندہ برس 20 جنوری کو اپنے عہدے سے رخصت ہوجائیں گے، متعدد بار ایران پر جوہری ہتھیاروں کی خفیہ تیاری کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے رواں ماہ کے شروع میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صدر ٹرمپ نے فوجی معاونین سے ایران پر ممکنہ حملے کے منصوبے پر مشاورت کی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے 2018 میں ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا کام جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ محسن فخری زادہ ابھی بھی ایران کی وزارت دفاع میں 'خصوصی منصوبوں' پر کام کر رہے ہیں۔

جمعہ کے روز محسن فخری زادہ پر حملے کی خبر سامنے آنے سے قبل ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا تھا کہ اسرائیل خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ ایران سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔

اسرائیل نے محسن فخری زادہ کے قتل پر فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔ اسرائیل پر قریباً ایک دہائی سے ایرانی جوہری سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا شبہ ہے۔'