.

لبنانی حزب اللہ نے امریکی پابندیاں ہوامیں اڑادیں؛’القرض الحسن‘ کی اے ٹی ایم کی تنصیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے امریکا کی پابندیوں کو ہوا اڑا دیا ہے اور اس کی ایک غیرسرکاری مالیاتی تنظیم ’القرض الحسن‘ نے دارالحکومت بیروت میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خودکار ٹیلر مشینیں (اے ٹی ایم) نصب کردی ہیں۔اس کا یہ اقدام لبنان کے مالیاتی قانون کے بھی صریح منافی ہے۔

ان اے ٹی ایم کے ذریعے حزب اللہ سے براہِ راست رقوم وصول پائی جاسکتی ہیں۔اس کے علاوہ اس ادارے سے قرضہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ان اے ٹی ایم سے لبنانی لیرا یا امریکی ڈالر میں سے کسی ایک کرنسی میں کسی قسم کی پابندی کے بغیر رقوم نکلوائی جاسکتی ہیں۔

لبنان کو اس وقت بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔اس کے نتیجے میں لبنانی بنکوں نے شہریوں پر رقوم نکلوانے پر پابندی عاید کررکھی ہے تاکہ سکڑتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو بچایا جاسکے اور لبنانی لیرا کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالا دیا جاسکے۔ لیرا پہلے ہی ڈالر کے مقابلے میں اپنی 365 فی صد قدر کھو چکا ہے۔

حزب اللہ کی القرض الحسن تنظیم کوئی بنک یا مالیاتی ادارہ نہیں۔ اس پر لبنان کے مالیاتی اور کریڈٹ قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔اس کی لبنان کے مرکزی بنک کے ساتھ کوئی مالیاتی تعلق داری بھی نہیں۔ چناں چہ یہ مرکزی بنک سے ڈالر خرید نہیں سکتی ہے۔یہ ایک غیرسرکاری ادارہ ہے اور اس کو 1987ء میں لبنان کی وزارتِ داخلہ نے خیراتی ادارے کے طور پر کام کے لیے لائسنس جاری کیا تھا۔

اس کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے معاونین کی تعداد چار لاکھ سے متجاوز ہے اور یہ 2019ء کے آخر تک تین ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی رقوم بہ طور قرض دے چکی تھی۔

ایک لبنانی تجزیہ کار کے مطابق ٹیلرمشینوں کی تنصیب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے بنک کاری نظام سے بالکل آزاد ہے۔حزب اللہ کی متوازی معیشت میں القرض الحسن اس کے مرکزی بنک کے طور پر کام کرتی ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کے پاسداران انقلاب کا ملک کے 80 فی صد سے زیادہ صنعتی شعبے پر کنٹرول ہے۔انھوں نے ملکی معیشت پر مضبوط پنجہ گاڑ رکھا ہے۔ حزب اللہ لبنان میں بھی اسی ماڈل کو اپنانے کی کوشش کررہی ہے۔القرض الحسن اس اسکیم کا حصہ ہے۔اس کے ذریعے کاروباری مالکان اور صنعتوں کو قرضے دیے جاتے ہیں۔‘‘

اس ماہر کا کہنا تھا کہ ’’القرض الحسن تو اس کہانی کا صرف ایک رُخ ہے۔لبنان کے بنک کاری نظام اور معیشت کا دھڑن تختہ ہوچکا ہے۔اس صورت حال کو حزب اللہ ایک مکمل طور پر آزاد اور متوازی معیشت کی تشکیل کے لیے ایک موقع کے طور پر بروئے کار لارہی ہے۔وہ قرضے دے رہی ہے، ایران اور شام سے مصنوعات کو قانونی اور غیر قانونی طور پر درآمد کررہی ہے اور ان دونوں ممالک کواشیاء برآمد بھی کررہی ہے۔‘‘

اس ماہر کے بہ قول القرض الحسن جوکچھ بھی کررہی ہے، وہ لبنان کے مالیاتی اور مانیٹری قوانین کے منافی ہے۔یہ سرکاری بنک کاری نظام سے بالکل باہر کام کررہی ہے اور لبنان کا مرکزی بنک اس کی رقوم کی ترسیل وتقسیم کا سراغ نہیں لگا سکتا ہے۔اس تنظیم کے ذریعے امریکا یا اقوام متحدہ کی پابندیوں کا شکار لبنانی ادارے اور افراد بھی رقوم کا لین دین کرسکتے ہیں۔

یادرہے کہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے 2007ء میں حزب اللہ کے معاون مالیاتی نیٹ ورک پر پابندی عاید کردی تھی اور انتظامی حکم نمبر 13224کے تحت القرض الحسن کو بلیک لسٹ کردیا تھا اور اس کے ساتھ مالی لین دین خلاف قانون قرار دے دیا تھا۔اس نے تب یہ کہا تھا کہ حزب اللہ القرض الحسن کو اپنی مالی سرگرمیوں کے انتظام کے لیے استعمال کررہی ہے۔

حزب اللہ کے تحت مالیاتی تنظیم القرض الحسن کا لوگو۔
حزب اللہ کے تحت مالیاتی تنظیم القرض الحسن کا لوگو۔