.

ایران نے کروڑوں ڈالر کینیڈا منتقل کیے : انٹیلی جنس رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک منی ایکسچینج کمپنی ،،، کروڑوں ڈالر کی کینیڈا منتقلی کے سلسلے میں ایران کی مدد کرنے میں ملوث ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنی "اونگ" نے تہران کی مدد کی تا کہ وہ صادرات بینک سے مالی رقوم منتقل کر سکے۔ یہ بینک ایرانی نظام کے زیر کنٹرول ہے اور یہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی فنڈںگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح کینیڈا کی انٹیلی جنس نے علی رضا اوناگی (44 سالہ) پر جو ایک تارک وطن سرمایہ کار ہے ،،، ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا ہے کیوں کہ اس نے مالی رقوم کی کینیڈا منتقلی میں تہران کی مدد کی۔

اگرچہ ایران سے کینیڈا منتقل کی جانے والی رقم ابھی تک نامعلوم ہے تاہم انٹیلی جنس رپورٹ میں اس کا اندازہ کروڑوں ڈالر لگایا گیا ہے۔

کینیڈا کے سیکورٹی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ ایرانی نظام چھوٹی منی ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے مالی رقوم کینیڈا منتقل کر کے بین الاقوامی پابندیوں سے فرار حاصل کرتا ہے۔ اس کام میں صادارت بینک کا تعاون حاصل رہا جس پر کینیڈا اور امریکا کی وزارت خزانہ نے حماس اور حزب اللہ کی فنڈنگ کے سبب پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی سلامتی کونسل نے 2006ء اور کینیڈا نے 2010ء میں ایران پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ گذشتہ برس امریکی وزارت خزانہ نے اس بین الاقوامی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں جس کے ذریعے ایرانی پاسداران انقلاب کی مالی رقوم گزرتی ہیں۔ اس سلسلے میں 25 افراد اور اداروں کو مالی پابندیوں کے ذریعے ہدف بنایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر "انتہائی دباؤ" کی پالیسی پر انحصار کیا۔ انہوں نے تہران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے گئے جوہری معاہدے سے مئی 2018ء میں یک طرفہ طور پر علاحدگی اختیار کر لی۔ ساتھ ہی تہران پر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔