.

ایرانی جوہری سائنس دان کی ہلاکت، حماس تنظیم کی جانب سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ یہ مذمت جمعے کے روز جاری ایک بیان میں سامنے آئی۔

اس سے قبل ایران نے تصدیق کی تھی کہ اس کے نمایاں ترین جوہری سائنس دانوں کو تہران کے نزدیک حملے اور فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایران کے مطابق کارروائی میں فخری زادہ اور ان کے چھ ساتھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے عسکری مشیر اور ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی اشارے موجود ہیں کہ فخری زادہ کی ہلاکت میں اسرائیل کا کردار ہے۔ ادھر ایران کے چیف آف اسٹاف نے فخری زادہ کی موت کو سنگین اور کاری ضرب قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ فخری زادہ اپنے شعبے میں نمایاں ترین ایرانی سائنس دان شمار ہوتے ہیں۔ وہ سرکاری طور پر وزارت دفاع میں تحقیق و ترقی کے امور کی انتظامیہ کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

امریکی وزارت خارجہ نے 2008ء سے فخری زادہ کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام کی ترقی کے واسطے فخری زادہ کی سرگرمیوں کی بنیاد پر کیا گیا۔