.

ایرانی جوہری پروگرام کے "ناخدا" کی نادر تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سرگرم کارکنان اور مقامی ذرائع ابلاغ نے جمعے کے روز کار بم دھماکے میں ہلاک کر دیے جانے والے ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کی نادر تصاویر جاری کی ہیں۔ وہ گذشتہ برسوں کے دوران بہت کم اعلانیہ طور پر نظر آئے۔

ان کی ایک تصویر وزیر دفاع امیر حاتمی کے ساتھ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے وزیر دفاع کے معاون فخری زادہ دفاعی صنعت سے متعلق تحقیق و تخلیق کے شعبے کے سربراہ کے طور پر اپنے مرکز کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کئی مغربی رپورٹوں میں فخری زادہ کو ایران کے خفیہ عسکری جوہری پروگرام کا ناخدا قرار دیا گیا۔ ادھر اسرائیل نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ ابھی تک خفیہ جوہری پروگرام کی ترقی جاری رکھنے کے سلسلے میں مصروف تھے جب کہ تہران اس امر کی تردید کر چکا ہے۔

اس سے قبل ایران نے تصدیق کی تھی کہ اس کے نمایاں ترین جوہری سائنس دانوں کو تہران کے نزدیک کار بم حملے اور فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایران کے مطابق کارروائی میں فخری زادہ اور ان کے چھ ساتھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ادھر ایران کے چیف آف اسٹاف نے فخری زادہ کی موت کو سنگین اور کاری ضرب قرار دیا ہے۔

رواں سال جنوری میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو امریکی فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ سلیمانی کی موت کو بھی ایران کے لیے کاری ضرب قرار دیا گیا تھا۔

فخری زادہ کی موت گذشتہ برسوں کے دوران جوہری شعبے میں ایران کے متعدد سائنس دانوں کی ہلاکت کے سلسلے میں تازہ ترین کارروائی ہے۔

تہران کی جانب سے ہمیشہ ان کارروائیوں کے بعد الزامات کی توپوں کا رخ اسرائیل اور امریکا کی جانب کیا جاتا رہا۔