.

لیبیا جانے والے ترکی کے مشتبہ جہاز سے متعلق نئی معلومات کا انکشاف!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل یورپی نگراں مشن "ایرینی" میں شامل جرمن فوجیوں نے لیبیا کی جانب رواں دواں ترکی کے ایک کارگو جہاز "روز ایلینا اے" کی تلاشی لینے کی کوشش کی تھی۔ اس کے نتیجے میں ترکی اور جمرنی کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔ علاوہ ازیں انقرہ نے اس اقدام پر شدید اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا کہ جہاز غذائی مواد لے کر جا رہا تھا۔

آج ہفتے کے روز جرمن اخبار Der Spiegel نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین کے نگراں مشن "ایرینی" کے پاس سیٹلائٹ تصاویر ہیں جن سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے متعلق جرمن فوج کے شکوک کو تقویت ملتی ہے۔

ڈیر اشپیگل کی معلومات کے مطابق یورپی مشن کے تجزیہ کاروں کو لیبیا کے شہر مصراتہ میں سابق بندرگاہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا کہ وہاں عسکری بکتر بند گاڑیاں اتاری گئیں۔

اسی طرح رواں ماہ نومبر میں ترکی کی بندرگاہ امبارلے پر اسی جہاز کی دیگر سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ مشتبہ سامان ایک بار پھر جہاز پر لادا گیا۔

اسی کے نتیجے میں ایرینی مشن ترک جہاز کے معائنے پر مجبور ہوا۔ جرمن فریگیٹ ہیمبرگ کے عملے نے گذشتہ اتوار کو لیبیا کے شہر بنغازی سے 200 کلو میٹر شمال میں ترک بحری جہاز "روز ایلینا اے" کو تلاشی کے واسطے روکا۔

تاہم انقرہ کی جانب سے شدید سفارتی احتجاج سامنے آنے کے بعد تلاشی کی کارروائی کو تقریبا پانچ گھنٹے بعد روک دیا گیا۔ اس وقت تک جرمن فوجی جہاز پر موجود 150 کنٹینروں میں سے بہت کم تعداد کا معائنہ کر سکے تھے۔ اس دوران انہیں کوئی ہتھیار نہیں ملا۔

البتہ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا جس میں اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ ترکی نے جرمن فوج پر الزام عائد کیا کہ اس نے ترک جہاز کے شہری عملے کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے جرمن فوجیوں کی جانب سے تنگ کیے جانے کی بات کی۔ یورپی یونین کے سفارت کاروں کے مطابق یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ غیر قانونی کھیپ کے حوالے سے شکوک و شبہات درست تھے۔

واضح رہے کہ بحری جہاز "روز ایلینا اے" صرف رواں سال کے دوران کم از کم آٹھ مرتبہ ترکی سے لیبیا گیا۔ جرمن اخبار کے مطابق اس دوران وہ مصراتہ اور طرابلس میں لنگر انداز ہوا۔