.

کیا ایرانی جوہری سائنس دان فخری زادہ کے قتل کے پیچھے اسرائیل ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تین امریکی عہدے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ مذکورہ عہدے داران میں امریکی انٹیلی جنس کے دو ذمے داران بھی شامل ہیں۔

اخبار نے جمعے کے روز اپنی اشاعت میں بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی CIA کو اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے روک دیا ہے۔

اس سے قبل ایران نے تصدیق کی تھی کہ اس کے نمایاں ترین جوہری سائنس دانوں کو تہران کے نزدیک حملے اور فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایران کے مطابق کارروائی میں فخری زادہ اور ان کے چھ ساتھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے عسکری مشیر اور ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی اشارے موجود ہیں کہ فخری زادہ کی ہلاکت میں اسرائیل کا کردار ہے۔ ادھر ایران کے چیف آف اسٹاف نے فخری زادہ کی موت کو سنگین اور کاری ضرب قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ فخری زادہ اپنے شعبے میں نمایاں ترین ایرانی سائنس دان شمار ہوتے ہیں۔ وہ سرکاری طور پر وزارت دفاع میں تحقیق و ترقی کے امور کی انتظامیہ کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔

امریکی وزارت خارجہ نے 2008ء سے فخری زادہ کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام کی ترقی کے واسطے فخری زادہ کی سرگرمیوں کی بنیاد پر کیا گیا۔