.

شدت پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں : اسلامی تعاون تنظیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے باور کرایا ہے کہ شدت پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہفتے کے روز ایک بیان میں انہوں نے زور دیا کہ تنظیم شدت پسندی اور دہشت گردی کی ہر صورت کو مسترد کرتی ہے۔

العثیمین نے باور کرایا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے منشور کے مطابق اندرونی معاملات میں مداخلت کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم فلسطین کے دو ریاستی حل پر پوری طرح قائم ہے۔

العثیمین کی سکریٹری شپ کی مدت اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے چاڈ سے تعلق رکھنے والے نئے سکریٹری جنرل حسين ابراہیم کا خیر مقدم کیا۔

اس سے قبل اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا 47 واں اجلاس جمعے کے روز نائیجر کے دارالحکومت نیامی میں شروع ہوا۔

اجلاس میں تنظیم کے رکن افریقی ساحل کے ممالک کو درپیش سیکورٹی اور انسانی چیلنجز زیر بحث آئے۔ ساتھ ہی تشدد، شدت پسندی، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا سے متعلق امور کے انسداد پر بھی بات چیت ہوئی۔

تنظیم کے سکریٹری جنرل نے بتایا کہ 47 ویں اجلاس کے ایجنڈے میں اسلامی دنیا کے لیے اہم تمام تر موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں مسئلہ فلسطین، دہشت گردی، شدت پسندی اور تشدد کا انسداد، غیر رکن ممالک میں مسلم جماعتوں اور کمینوٹیز کی صورت حال، روہینگا کے مسلمانوں کے بارے میں عالمی عدالت انصاف میں مقدمے کے لیے وسائل اور تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان مکالمہ نمایاں ترین ہیں۔