.

اسرائیل نے امارات کے ساتھ ہوابازی اور سائنس وٹیکنالوجی تعاون معاہدوں کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز اسرائیلی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہوا بازی اور سائنس وٹیکنالوجی تعاون کے معاہدوں کی توثیق کردی ہے۔

عرب میڈیا میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر گینڈیلمین نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ حکومت نے ہوا بازی کے معاہدے اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سائنس ٹیکنالوجی میں تعاون کے معاہدے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنے کا ایک اور اہم سنگ میل ہے اور ہم اضافی معاہدوں کے ذریعے دو طرفہ تعلقات میں ترقی اور توسیع جاری رکھیں گے۔

گذشتہ جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے صدر الشیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے وفاقی قومی کونسل کے قانون سازی باب کے دوسرے اجلاس کے افتتاحی اجلاس میں تقریر میں کہا تھا کہ " معاہدہ ابراہیم" جو اسرائیل کے ساتھ طے پایا ہے وہ امن کا ایک نیا باب ہے۔ اس معاہدے سے خوشحالی کے حصول کے لیے خطے کے عوام کی دیرینہ خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہمیں اپنی پالیسی کے مطابق ان ممالک کو جو اپنے ملک اور اپنے خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیادوں کی حمایت ، بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری ، پرامن بقائے باہمی اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کو حل کرنا چاہتے ہیں انہیں اپنے قریب لانا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر دستخط کے بعد سے دونوں فریقوں نے متعدد معاشی اور تجارتی معاہدوں پر کام شروع کیا ہے۔ 22 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے امور خارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے اعلان کیا کہ امارات کے شہری بغیر کسی ویزا کے اسرائیل جا سکتے ہیں اور 90 دن تک قیام کر سکتے ہیں۔