.

سعودی وزارت ثقافت برائے خطاطی نے عربی زبان کے فروغ کے لیے کیا کام کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت ثقافت برائے عربی خطاطی کی طرف سے مملکت میں‌منعقد ہونے 'خادم الحرمین الشریفین' کپ کے فائنل مقابلے کے موقعے پر عربی رسم الخط کو 'پروموٹ' کرنے کے لیے مقابلے کے لیے خصوصی معاونت فراہم کی گئی۔

وزارت ثقافت کی طرف سے یہ اقدام شیریں عرب ی زبان اور اس کے خوبصورت اور جاذب نظر حروف کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ مملکت عربی زبان کے تحفظ کے لیے کیا کچھ کررہی ہے۔ یہ سعودی عرب کی حکومت کی عربی زبان کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کا ثمر ہے کہ عربی آج بین الاقوامی زبانوں میں پہلے درجے کی چند زبانوں میں شامل ہے۔ یہ وہ زبان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی زبان بنا کر تا قیامت امر کر دیا۔

عربی زبان کی بقا اور اس کے تحفظ کے لیے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنی بھاری ذمہ داریوں کا یقین دلاتے ہوئے باور کرایا کہ ان کے وطن، تشخص، زبان اور دین کے حوالے سےان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا وطن ہم سے یہ حق رکھتا ہے کہ ہم سب زبان کی بقا کے لیے کام کریں۔ بلاد حرمین شریفین وہ مقام ہے جہاں وحی الٰہی کا نزول ہوا۔ پوری دنیا میں مسلمان اس کی طرف رخ کرکے دن میں پانچ بار اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اسی سرزمین کو نبی آخر الزماں کا شرف بخشا۔ اسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عربی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا۔ یہ زبان ہمارا فخر اور ہمارا سرمایہ ہے۔ عربی زبان کی بقا ہمارے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری کا درجہ رکھتی ہے اور ہمیں اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہو گا۔

یہ بات اہم ہے کہ عربی زبان کا عرب کلچر اور ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یہ زبان اپنے زمانی ارتقا کے ساتھ ساتھ تہذئبی اور ثقافتی ارتقا کے مراحل طے کرتی رہی ہے۔ عربی زبان خود ایک ثقافت اور تہذیب ہے۔ سب کچھ سے پہلے یہ دین مبین کی زبان ہے۔ پھر یہ ایک عالمی زبان ہے جو عقائد، ثقافتوں اور تہذیبوں کی نمائندگی اور ترجما نی کرتی ہے۔ عربی ایک زندوہ جاوید زبان ہے جو صرف عرب ممالک ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں کسی نا کسی شکل میں بولی اور سجھی جاتی ہے۔ عربی ایک ایسی زبان ہے جس نے خطرے کی دوسری زبانوں پر اپنی گہری چھاپ اور اثرات ڈالے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان نے کہا تھا کہ ہمارا پیارا وطن سعودی عرب ایک عرب ملک ہے۔ عربی اس کے بنیادی ڈھانچے کا اساسی جزو ہے۔ مملکت کےنظام تعلیم کی بنیاد بھی عربی زبان ہے۔ سعودی عرب اسے مختلف اداروں میں فروغ دے رہا ہے۔ مملکت نے اندرون اور بیرون ملک عربی زبان کے فروغ کے لیے تعلیمی ادارے، انسٹیٹیوٹ، تحقیق مراکز اور تدریسی شعبے قائم کیے جہاں پر عربی زبان سیکھی اور سکھائی جاتی ہے۔