.

اختلافات کے بیچ اوپیک پلس کا اجلاس 3 دسمبر تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس کے روس کے زیر قیادت حلیف ممالک نے سال 2021ء کے لیے تیل کی پیداواری پالیسی کے حوالے سے بات چیت جمعرات تک ملتوری کر دی ہے۔ یہ بات گذشتہ روز پیر کو تین ذرائع نے بتائی۔ واضح رہے کہ اس سلسلے میں مرکزی کھلاڑیوں کے بیچ تیل کے حجم کے حوالے سے ابھی تک اختلاف رائے موجود ہے۔ کرونا کی وبا کے سائے میں تیل کی کمزور طلب کے دوران پیداوار کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اوپیک پلس گروپ کا اجلاس آج منگل کی دوپہر منعقد ہونا تھا۔ گروپ میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے ارکان ، روس اور دیگر حلیف شامل ہیں۔

اوپیک اور اس کے حلیفوں کو جنوری 2021ء سے تیل کی پیداوار میں یومیہ بیس لاکھ بیرل کی کمی پر عمل کرنا ہے۔ تاہم کرونا کی وبا کے بیچ دباؤ کے جاری رہنے کے ساتھ اوپیک پلس گروپ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ موجودہ 77 لاکھ بیرل کی یومیہ کمی (جو عالمی طلب کا تقریبا 8% ہے) کو سال 2021ء کے ابتدائی مہینوں تک جاری رہنے دیا جائے۔ اوپیک تنظیم میں سب سے بڑی پیداوار رکھنے والا ملک سعودی عرب بھی اسی موقف کی حمایت کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق روس نے اوپیک پلس گروپ کی پیداوار میں آئندہ جنوری سے یومیہ 5 لاکھ بیرل کے اضافے کی تجویز دی ہے۔ ادھر اوپیک کے رکن ملک متحدہ عرب امارات نے بھی کہا ہے کہ وہ رکن ممالک کی جانب سے پیداوار میں کمی کے وعدوں پر عمل میں بہتری آنے پر ہی مذکورہ توسیع پر تیار ہو گا۔

ماسکو میں کرملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بیسکوف کا کہنا ہے کہ روس اور اوپیک کے درمیان اختلافات 2020ء کی طرح بڑے نہیں ہیں جب ان اختلافات کے نتیجے میں بات چیت ختم ہو گئی اور پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گیا تھا۔