.

ایرانی پارلیمنٹ: جوہری تنصیبات کے معائنوں کو محدود کرنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ نے منگل کے روز ایک منصوبے کے حق میں ووٹ دیا ہے جس کے تحت جوہری تنصیبات کے اندر تفتیشی کارروائیوں پر قیود عائد کی جا سکیں گی۔ یہ پیش رفت ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر کی جانب سے پیر کے روز کیے گئے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ اعلان میں کہا گیا تھا کہ تفتیشی کارروائیاں روکے جانے کے حوالے سے ایران نے ایجنسی کو آگاہ نہیں کیا ہے۔ تہران میں جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے بعد سخت گیر قدامت پرستوں نے تفتیشی کارروائیاں روکے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق پارلیمںٹ میں 251 ارکان نے عمومی صورت میں اس منصوبے کے حق میں ووٹ دیا۔ منصوبے میں جوہری تنصیبات کے اندر تفتیشی کارروائیوں پر قیود عائد کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح پارلیمںٹ نے ایک قانون بھی منظور کیا ہے جو حکومت کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی 20% تک بڑھائی جائے۔

اگر ایران کی شوری نگہبان اس منصوبے کی منظوری دے دیتی ہے تو حکومت شق 6 پر عمل کی پابند ہو گی۔ یہ شق ایران کو اجازت دیتی ہے کہ جوہری معاہدے میں شامل 5 + 1 ممالک اگر ایران کے ساتھ معمول کے بینکنگ تعلقات قائم نہیں کرتے اور ایرانی تیل کی برآمد اور فروخت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم نہیں کرتے ،،، تو پھر ایران دوبارہ سے کام کا آغاز کر دے۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایران کی جانب سے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد اور ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق پر اس الزام کے عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے کہ انہوں نے مکمل طور پر ایک نئی اور پیچیدہ کارروائی کے ذریعے ایران کے ایک اہم ترین جوہری سائنس دان محسن فخری کو ہلاک کر دیا۔

اتوار کے روز پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس کے بعد ارکان نے ایک بیان پر دستخط کیے۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ فخری زادہ کی ہلاکت کا جواب دیا جائے اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو بلک کی جوہری تنصیبات میں داخل ہونے سے روک دیا جائے۔

یاد رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ایران جوہری معاہدے میں مذکور کئی شقوں کی پابندی کرنے سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یک طرفہ طور پر معاہدے سے علاحدہ ہونے اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے جواب میں سامنے آیا۔