.

سعودی فوٹو گرافر نے پتھروں پر بنے اونٹوں کے نقوش کواپنے کیمرے میں کیسے محفوظ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک مقامی فوٹو گرافر نے تبوک کے علاقے تیما میں پہاڑی چٹانوں پر ماضی کے مختلف ادوار میں بنائے گئے نقوش جن میں اونٹوں کی تصاویر بھی شامل ہیں کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرکے انہیں ایک دستایزی شکل دے دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق فوٹو گرافر عبدالالہ الفارس نے حال ہی میں تیما اور اس کے مضافات میں ان پہاڑی چٹانوں کا دورہ کیا جن پر مختلف جانداروں کی نقش کاری کی گئی ہے۔ پہاڑی چٹانوں پر کی گئی نقش کاری میں زیادہ تراونٹوں کے نقوش پائے جاتے ہیں۔

KSA: Photography

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الفارس نے کہا کہ یہ نقوش فائن آرٹ کے متنوع نمونے اور تعبیرات پیش کرتے ہیں اور شاید یہ پہاڑوں میں‌کی گئی نقش کاری کی عمدہ اور اہم ترین مثالیں ہیں۔ ان نقوش کو دیکھنے والے ایک لمحے میں سیکڑوں سال ماضی میں چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ اہم اور مشہور تصاویر میں بابل بادشاہ اونٹ کی تصویر ہے جو تیما میں جبال سرمدا کی چٹانوں پر بنائی گئی ہے۔ یہ مقام تبوک سے جنوب مغرب میں واقع ہے جہاں قریب ہی وادی روافہ واقع ہے۔ اس تصویر میں ایک اونٹ، ایک چراغ اور ایک خاتون کو منقش کیا گیا ہے۔

KSA: Photography

سعودی فوٹو گرافر کا کہنا ہے کہ تبوک کے قریب پہاڑی علاقوں میں اونٹوں کی تصاویر سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ اونٹ پرانے دور کی تہذیبوں اور گذری قوموں کے ہاں بھی اہمیت کا حامل جانور سمجھا جاتا تھا۔