.

ہزیمت کے باوجود عراق اور شام میں داعش کا خطرہ بڑھ کر آ رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ شام اور عراق میں داعش تنظیم کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے اعلان کر دیا گیا تھا تاہم اس طرح کی معلومات سامنے آئی ہیں کہ اس دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں میں بالخصوص شام اور عراق کے دیہی علاقوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق داعش تنظیم شام کے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرگرم ہے۔ وہ بشار حکومت کی فورسز اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کو گھات لگا کر نشانہ بناتی ہے۔ علاوہ ازیں اچانک حملوں اور دھماکوں کے ذریعے مقابل حریف کو جانی نقصان سے دوچار کیا جاتا ہے۔

روسی فوج اور بشار حکومت کی فورسز کے جنگی طیاروں کی جانب سے داعش کے ٹھکانوں پر شدید بم باری کے باوجود تنظیم کا وجود حتمی طور پر ختم نہ ہوا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دہشت گرد داعش تنظیم نے گذشتہ ماہ بشار کی فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کے 92 عناصر کو ہلاک کیا۔ یہ اموات شام کے دیہی علاقوں میں گھات لگا کر نشانہ بنانے ، گولہ باری کرنے اور جھڑپوں کے دوران ہوئیں۔

اسی طرح 24 مارچ 2019ء سے اب تک بشار کی فوج اور اس کے شامی و غیر شامی مسلح فورسز کے مجموعی طور پر 1020 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں کم از کم 2 کا تعلق روس سے اور 140 کا ایران کی ہمنوا غیر شامی ملیشیاؤں سے ہے۔ یہ تمام افراد دریائے فرات کے مغربی علاقے کے علاوہ دیر الزور، الرقہ ، حمص اور السویداء صوبوں کے دیہی علاقوں میں داعش تنظیم کی جانب سے گھات لگا کر اور دھماکوں کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوئے۔ المرصد نے اس عرصے میں داعش کے حملوں میں گیس کی فیلڈز میں کام کرنے والے 4 شہریوں ، 11 چرواہوں اور ایک خاتون کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔ اس دوران داعش کے ٹھکانوں کے خلاف بم باری میں تنظیم کے 562 ارکان مارے گئے۔

دوسری جانب عراق میں بھی داعش کا خطرہ ابھی تک قائم ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی اتحادی فوج اعلان کر چکی ہے کہ تنظیم کو عراق میں یہاں تک کہ دیہی علاقوں میں بھی پناہ گاہ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

شام اور عراق میں داعش کے حملوں اور ان میں جانی اور مادی نقصانات میں اضافے کے بعد حالیہ عرصے میں دونوں ممالک میں تنظیم کی موجودگی نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے۔

مبصرین کے نزدیک یہ اُن غیر فعال گروپوں کی بدولت ہے جو داعش نے شام اور عراق میں بہت سے اور وسیع علاقوں میں چھوڑ دیے تھے۔ یہاں تک کہ سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی ان گروپوں کی سرگرمیوں کو چیلنج نہ کر سکیں۔