.

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو محصولات کی مد میں ایک ارب ڈالر منتقل کردیے: فلسطینی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو محصولات کی مد میں اکٹھی کی گئی ایک ارب ڈالر کی رقم منتقل کردی ہے۔اسرائیلی حکومت نے گذشتہ کئی ماہ سے یہ رقم روک رکھی تھی اور اب فلسطینی اتھارٹی سے روابط بحال ہونے کے بعد اس کو رقم دے دی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے شہری امور کے وزیر حسین الشیخ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’’اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے تمام مالی واجبات منتقل کردیے ہیں۔ان کی کل مالیت تین ارب 76 کروڑ 80 لاکھ شیکلز بنتی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے مئی میں اسرائیل کے ساتھ تمام روابط منقطع کردیے تھے۔تب فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے غربِ اردن کے بعض حصوں کو ہتھیانے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔اس کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل سے اکٹھے کیے گئے ٹیکسوں کی رقوم کو وصول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اسرائیل نے اگست میں متحدہ عرب امارات کےساتھ امن معاہدے کے اعلان کے بعد غربِ اردن کے علاقوں کو ضم کرنے کے منصوبہ پر عمل درآمد مؤخر کردیا تھا۔

اسی ہفتے ایک اسرائیلی عہدہ دار نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ’’وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے فلسطینی اتھارٹی کو رقوم منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے‘‘ لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کو کل کتنی رقوم دی جارہی ہیں۔

فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’فلسطینی ان فنڈز کےحق دار ہیں۔اس سے فلسطینی معیشت پر پڑنے والے دباؤ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔‘‘

مقبوضہ مغربی کنارے میں نظم ونسق کی ذمہ دار فلسطینی اتھارٹی نے محصولات کی مد میں موصول ہونے والی ان رقوم کی عدم وصولی کے بعد اپنے ملازمین کی تن خواہوں میں کٹوتی کردی تھی جبکہ کرونا وائرس کی وَبا کی وجہ سے بھی فلسطینی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ نیز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی سالانہ کروڑوں ڈالر کی رقوم روک لی ہیں۔