.

سعودی عرب اور مصر نے غیرملکی مداخلت مسترد کر دی، مسئلہ فلسطین کے حل پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور مصر نے ایک بار پھر عرب ممالک میں غیرملکی مداخلت، دہشت گری اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ ، علاقائی مسائل بالخصوص مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے حوالے متفقہ موقف اختیار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب اور مصر کی مشترکہ مشاورتی کونسل کے کل منگل کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہےکہ دونوں برادر ملک عرب ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر اور سعودی عرب عرب ملکوں کے امن کو تباہ کرنے اور خطے میں انارکی پھیلانے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔ عرب لیگ کا عرب تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ہے اور سعودیہ اور مصر عرب لیگ کے اہم ممالک میں شامل ہیں۔

بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور مصر خطے کے تنازعات جن میں فلسطین کا مسئلہ خاص طور پرشامل ہے کو بین الاقوامی قراردادوں اور عالمی قوانین کی روشنی میں حل کرنے کے پرزور حامی ہیں۔ بیان میں علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ عرب ایکشن کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

مشاورتی اجلاس میں دونوں ملکوں کے سیاسی اور دیگر امورتبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں خلیجی ممالک میں جہاز رانی، باب المندب اور بحر احمر کے پانیوں میں آزادانہ تجارت پر زور دیا اور کہا کہ خطے کے بعد ممالک بین الاقوامی بحری تجارت میں رخنہ ڈالنے اور بدامنی کے ذریعے تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو روکنے کی ناکام سازش کر رہے ہیں۔

مصر اور سعودی عرب نے متنازع النہضہ ڈیم کے حوالے سے یکساں موقف اختیار کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ النہضہ ڈیم کی تعمیر کے باجود مصر کو اپنے حصے کے پانی کے حصول کاحق حاصل ہے۔

اس موقعے پر مصر نے سعودی عرب کے خلاف ہونے والے حوثیون کے حملوں کی شدید مذمت کی اور مملکت کے خلاف ایران اور دوسرے ممالک کی طرف سے چلائی جانے والی مہمات کو مسترد کر دیا۔

مشترکہ بیان میں لیبیا میں دیر امن کےقیام اور متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی اور عرب ملک میں غیرملکی مداخلت کا سلسلہ بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

بیان میں سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کو واپس جانے اور مشرقی بیت المقدس کے دارالحکومت پر مشمل آزاد فلسطینی ریاست کےقیام کی حمایت کی گئی۔ دونوں ملکوں نے تنازع فلسطین کے حل کے لیے عرب امن فارمولے کو ایک مثالی فارمولے کے طور پر اپنانے پر زور دیا۔