.

لبنان کے مرکزی بنک کا آڈٹ تار تار،کیا اب عالمی امداد بھی نہیں ملے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے مرکزی بنک کا فورینزک آڈٹ راستے ہی میں رہ گیا ہے اور اس کے حسابات کی جانچ پرکھ کے لیے جس کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ،اس نے بنک حکام کے عدم تعاون کی وجہ سے فورینزک آڈٹ سے معذرت کر لی ہے۔

لبنانی حکومت نے نیویارک میں قائم الواریز اینڈ مارسال کمپنی سے مرکزی بنک کے فورینزک آڈٹ کے لیے سمجھوتا طے کیا تھا لیکن اس کمپنی نے سمجھوتے پر دست خط کے دوماہ بعد ہی اس سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔اس نے گذشتہ ہفتے اپنے اس فیصلے کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ اس کو بنک کے آڈٹ کے لیے درکار ضروری معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔اس کے بغیر وہ اپنے کام کو پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا سکتی ہے۔

لبنان کو اس وقت 1990ء میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سب سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔اس کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اپنی 80 فی صد سے زیادہ قدر کھو چکی ہے۔افراطِ زر کی شرح آسمان سے باتیں کررہی ہے اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی خطِ غُربت سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے۔

لبنان کواس معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کی ایک پیشگی شرط کے طور پرمرکزی بنک کا فورینزک آڈٹ کیا جانا چاہیے۔ بالخصوص امریکا ، فرانس اور عالمی مالیاتی فنڈ نے لبنان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے امدادی پیکج مہیّا کرنے کی غرض سے اس کا تقاضا کیا ہے۔

مگر اس کے بغیر ہی آڈٹ کمپنی کا سمجھوتے سے دستبرداری کا فیصلہ لبنانی حکام کے نزدیک بہت حیران کن ہے کیونکہ لبنان کے سبکدوش ہونے والے وزیرخزانہ غازی وزنی نے نومبر کے اوائل میں حسابات کے آڈٹ سے متعلق سمجھوتے میں تین ماہ کی توسیع کردی تھی۔

’آکسفورڈ اکنامکس‘ کے ماہرمعیشت نفیس ذوق کا کہنا ہے کہ ’’مرکزی بنک کے معاملات کی تحقیقات کے لیے سیاسی عزم کی کمی پائی جاتی ہے۔آڈٹ کمپنی سے طے شدہ سمجھوتے کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری اساسی کام نہیں کیا گیا تھا۔‘‘

فوربس کی افشا کردہ ایک دستاویز کے مطابق لبنان کے مرکزی بنک نے الواریزاورمارسال کے نصف سے زیادہ سوالوں کا جواب ہی نہیں دیا۔بنک کے گورنر ریاض سلامہ اس ضمن میں بنک کاری کے خفیہ قانون کا حوالہ دیتے ہیں۔ لبنان سمیت دنیا کے دس سے زیادہ ممالک میں یہ قانون نافذ العمل ہے۔اس کے تحت مرکزی بنک آڈٹ فرم کو درکار معلومات فراہم کرنے سے انکارکرسکتا ہے۔

تاہم ایک معروف وکیل پال مارکوس نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’بنک کاری کا خفیہ قانون سنٹرل بنک کے فورینزک آڈٹ کی راہ میں کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ نگران وزیراعظم حسان دیاب اور ان کے سبکدوش ہونے والی وزیر انصاف میری کلاڈ نجم نے گورنر ریاض سلامہ پر آڈٹ کی راہ میں حائل ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

واضح رہے کہ مرکزی بنک نیویارک سے تعلق رکھنے والی کنسلٹینسی فرم اور لبنانی ریاست کے درمیان طے شدہ سمجھوتے میں تیسرا فریق تھا۔اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ فرم کو بنک سے کس قسم کی معلومات درکار ہیں۔ نیز وہ منی لانڈرنگ ،مالیاتی انجنیئرنگ اور قرضوں کے غلط استعمال میں سے کس چیز کی تحقیقات کرے گی۔

لبنان کے بنک کاری نظام کو برسوں سے ’’پونزی اسکیموں‘‘کے مشابہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور بنک غیرمنطقی طور پربہت زیادہ شرح سود کی پیش کش کرتے رہے ہیں۔گورنر سلامہ نے گذشتہ برسوں کے دوران میں غیر روایتی مالیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کیا تھا تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ کیا جاسکے۔

لبنان میں حکمران اشرافیہ کی عشروں سے جاری بدعنوانیوں ، لوٹ کھسوٹ اور بدانتظامی کی وجہ سے اب اس کا بنک دیوالا نکل گیا ہے اور ریاستی ڈھانچا دھڑام سے گرا چاہتا ہے جبکہ دارالحکومت بیروت سمیت مختلف شہروں میں لبنانی گذشتہ ایک سال سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ ملک کا نظم ونسق بہتر بنانے ،اشیائے ضروریہ کی ارزاں نرخوں پر دستیابی اور بدعنوان حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔