.

ریاست اور قومی وسائل کی قیمت پر حزب اللہ کی اربوں ڈالر کی سیاہ معیشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ جہاں خطے میں اپنا عسکری نیٹ ورک مضوط کررہی ہے وہیں اس نے اپنی اربوں ڈالر کی متوازی معیشت بھی قائم کررکھی ہے۔ ماہرین کے مطابق حزب اللہ نے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کرکے اپنا ایک مضبوط معاشی نیٹ ورک اور بنکنک سسٹم بنا رکھا ہے۔ یہ سلسلہ آج نہیں بلکہ سنہ 1980 کی دہائی میں تنظیم کے قیام کے بعد سے ہی جاری و ساری ہے۔ حزب اللہ لبنان میں اپنے فوجی ہتھیاروں کی تیاری کے بعد لبنان کے سرکاری اداروں سے باہر اپنی معیشت پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

یہ معیشت سماجی شعبوں، صحت اور تعلیمی اداروں سے لے کراس کی فوجی تنظیم تک پھیلی ہوئی ہے۔ حزب اللہ کی معیشت کی بنیاد براہ راست ایرانی فنڈز پر منحصر ہے۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ان کی جماعت کی ساری رقم، اس کے ممبروں کی تنخواہیں،اس کے اداروں کے بجٹ حالیہ برسوں میں ایران سے آتا ہے اور اس کا تخمینہ600 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ ایران نے حزب اللہ کے معاشی اخراجات کو پورا کرنے میں اس کی بھرپور مدد کی چاہے ایرانی عوام بھوکے ہی کیوں نہ مرجائیں۔ ایران سے ملنے والی رقم سے حزب اللہ کے ہلاک ہونے والے جنگجوئوں کے خاندانوں کی کفالت، تنظیمی امور سے ریٹائر ہونے والوں کی امداد اور تنظیم کے ساتھ مختلف شعبوں میں ملازمت کرنے والوں کی تنخواہوں پر صرف کی جاتی ہے۔

اس متوازی معیشت میں جس میں حزب اللہ اپنے فنڈز کا نیٹ ورک رکھتی ہے میں "شہداء فاؤنڈیشن" امداد چیریٹی سوسائٹی "البنیان انجینئرنگ اینڈ کنٹریکٹنگ کمپنی" ،"الموسوی اسٹار" سپر مارکیٹ ، اوردیگر کمپنیاں شامل ہیں جن میں دودھ اور پنیر ، مصنوعی ربڑ مینوفیکچررز اور آٹوکمپنیاں اور کاروباری فرمیں‌بھی شامل ہیں۔ ان کمپنیوں اور فرموں کے ذریعے حزب اللہ نے ریاست کے اندر اپنی ایک متوازی معاشی ریاست قائم کررکھی ہےجس کا اپنا ایک مکمل مانیٹری سسٹم ہے۔

"حزب اللہ" کی متوازی معیشت کا سب سے نمایاں اشارہ "قرض الحسن ایسوسی ایشن" ہے جواس نے 1982 میں قائم کی تھی۔ حزب اللہ کےمالیاتی نظام کے لیے اس کا درجہ مرکزی بینک کی طرح ہے۔ اس نے بھاری مقدار میں سونے کے حصول کے ذریعہ پہلا مالیاتی مرکز قائم کیا۔

اس کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ایسوسی ایشن لبنانی بنکوں سے لائسنس یافتہ نہیں بلکہ لبنانی بینکاری نظام سے باہر کام کرتی ہے۔

ایسے وقت میں جب لبنانی بینکوں نے جمع صارفین کو ڈالرز دینا بند کردیئے اور لبنانی کرنسی میں کا اجرا کی حد مقرر کردی قرض حسن ایسوسی ایشن نے ایک "اے ٹی ایم" سروس متعارف کروائی۔ اسے اپنی کچھ شاخوں میں اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنے صارفین کو "تازہ" ڈالر دینے کا کام شروع کر دیا۔

حزب اللہ بینکنگ کمپنیوں کے توسط سے روایتی بینکنگ سسٹم پر انحصار نہیں کرتی بلکہ ترسیلات زر اور نقد زر مبادلہ کے نظام پر انحصاری کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں اور معاشی ماہرین کے مطابق حزب اللہ مالیاتی معیشت پر مبنی مالی اور بینکاری نظام کو اس کے متوازی نظام سے بدلنا چاہتی ہے۔

حزب اللہ نے اپنی متوازی معیشت کی مالی اعانت کے لیے لبنانی ریاست کی اہم سہولیات سے فائدہ اٹھایا۔ 4 اگست کو بیروت بندرگاہ میں ہونے والے دھمکاوں سے تباہ بندرگاہ حزب اللہ کی معیشت کا ایک بڑا دروازہ تھا۔ تنظیم کے جہاز کسٹم ڈیوٹی کے بغیر بندرگاہ میں داخل ہوتے۔ تمام تجارتی مواد ان کے مالکان کو بغیر ٹیکس اور فیس ریاست کو ادا کرنے کے داخل کیے جاتے۔

اس نے بیروت ہوائی اڈے سے اپنے سامان کی مفت آمدو ترسیل سے بھی فائدہ اٹھایا۔

عوامی افادیت کے علاوہ غیر قانونی عبور کے ذریعہ اسمگلنگ نے حزب اللہ کی متوازی معیشت کی معاونت کی اور اس میں ہم کردار ادا کیا۔ اس نے لبنان کے خزانے کو کسٹم محصولات سے محروم کردیا اور لبنان کے مرکزی بینک کے ذخائر کو ہارڈ کرنسیوں کے ذخائر سے محروم کردیا۔ بیشتر اسمگل شدہ سامان لیرا کے سرکاری زر مبادلہ کی شرح کے مطابق مرکزی بینک کے ذریعہ سبسڈی دیتا ہے۔

اس تناظر میں لبنان کے سابق سفیر ہشام حمدان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حزب اللہ ایران سے وابستہ ایک تنظیم ہے اور اس سے مالی اعانت حاصل کرتی ہے۔ اس طرح اپنی مالی استحکام کو مضبوط بنانے کے لبنانی نظام سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حزب اللہ کی معیشت ایرانی مالی مدد پر منحصر ہے اور ایرانی رقم کا کچھ حصہ بینکوں کے توسط سے آتا تھا لیکن لبنانی بینکاری نظام کے دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بعد حزب اللہ نے دیگر طریقوں کی طرف رجوع کیا۔

دوسری طرف سفیر حمدان کے مطابق ایرانی پیسہ نے حزب اللہ کو افریقہ اور لاطینی امریکا میں کمپنیاں بنانے میں مدد فراہم کی اور اس کی آمدنی دوسرے ترقی پذیر ممالک کے بینکوں میں منتقل کردی گئی اور پھر نقد رقم واپس لے لی گئی جسے ہوائی جہاز کے ذریعے لبنان منتقل کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقوم پارٹی کے صحت ، معاشرتی اور فوجی منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ غیر متوقع آمدنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے حمدان نے کہا کہ حزب اللہ کئی غیرقانونی ذرائع سے بھی رقم حاصل کرتی ہے۔ ان میں منشیات کی اسمگلنگ جیسے منظم جرائم بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی انفارمیشن کارپوریشن کے محقق محمد شمس الدین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی متوازی معیشت لبنانی معیشت کا حصہ ہے مگر حزب اللہ کی سیاہ معیشت کے مکمل اعدادو شمار موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حزب اللہ کے بجٹ کے بارے میں اعداد و شمار اور تجزیے غلط اور بعض اوقات غیر منطقی ہوتےہیں۔ سیاسی محقق اور یونیورسٹی کے پروفیسر مکرم رباح نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ متعدد وجوہات کی بنا پر کالی معیشت پر انحصار کرتی ہے۔ اس میں منشیات اور اسلحے کی تجارت سے حاصل ہونے والی اپنی رقم شامل ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ حزب اللہ اپنے اسلحے کی غیر قانونی تجارت کو مستحکم کرتی ہے اور ٹیکس چوری کرتی ہے۔