یورینیم افزودگی کے معاملے پرایرانی صدر اور پارلیمنٹ آمنے سامنے

حسن روحانی نے پارلیمنٹ سے منظور بل مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بدھ کے روز ایرانی صدر حسن روحانی نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ اس بل کو مسترد کردیا جس میں اقوام متحدہ کے جوہری تنصیبات کے معائنے کو معطل کرنے اور یورینیم کی افزودگی کو بڑھاوا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا بل ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی اور امریکی پابندیوں میں نرمی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کے لیے"نقصان دہ" ہے۔

گذشتہ ماہ ایران کے ممتاز ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد یہ بل اصلاح پسند حسن رُوحانی اور سخت گیر اور مغرب سے محاذ آرائی کےحامی عناصر کے مابین دشمنی کی عکاسی کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ سے منظور کردہ بل میں کہا گیا ہےکہ اقوام متحدہ کے ذریعہ کیے جانے والے معائنوں کو معطل کردیا جائے گا اور اگر یورپی ممالک اس ملک کے تیل اور بینکاری کے شعبوں پر سخت امریکی پابندیوں کو کم کرنے میں ناکام ہوگئے تو حکومت سے یورینیم کی افزودگی کو 20 فیصد تک بحال کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

یورینیم افزودگی کی یہ سطح جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار سطح سے نیچے ہے لیکن سویلین مقاصد کے لیے درکار سطح سے اوپر ہے۔

کابینہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس بل کو منظور نہیں کرتی اور اسے سفارتی سرگرمیوں کے لئے نقصان دہ سمجھتی ہے۔

اس کے لیے انہوں نے اشارہ کیا کہ جون میں ہونے والے انتخابات سے قبل ارکان اپنے موقف مضبوط کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم ایٹمی میدان میں ماضی کی نسبت زیادہ مضبوط ہیں۔

توقع ہے کہ اس بل کے بہت کم اثرات پڑیں گے۔ مگریہ واضح ہے کہ چوٹی کے ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کےبعد ایران میں سخت گیر عناصر کی طرف سے اصلاح پسند انتظامیہ پر دبائو بڑھا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی تمام ریاستی اداروں جن میں جوہری ادارہ بھی شامل ہے کو محسن فخری زاہ کے قتل کاجواب دینے کا حکم دیا ہے۔ مغربی انٹیلی جنس ادارے محسن فخری زادہ کو ایرانی ایٹمی پروگرام کا 'خالق' قرار دیتے ہیں اور ان کی ہلاکت کو ایرانی جوہری پروگرام کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں