.

ایران عراق میں اپنا اثرونفوذ قائم کرنے کے لیے مزارات پر کروڑوں‌ ڈالر خرچ کررہا ہے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خبر رساں ادارے رئیٹرز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران شیعہ مزارات کی تعمیر و مرمت پر لاکھوں ڈالر خرچ کر کے عراق میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کر رہا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایران عراق میں امام حسین کے مزار کے توسیعی منصوبے پر کام کر رہا ہے جو تین سو سالوں میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کا تخمینہ چھ سو ملین ڈالر ہے۔

عراق میں توسیع کی ایرانی حکمت عملی اور شیعہ مزارات کی تعمیرو ترقی سے فائدہ اٹھا کر ایران دراصل عراق میں اپنے پنجے گاڑھ رہا ہے۔

اس منصوبے کی نگرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر حسن بلاراک کر رہے ہیں جسے حال ہی میں امریکا نے اسلحہ کی اسمگلنگ ، انٹیلی جنس سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ کے سلسلے میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے سے عراق میں ایرانی اثر و رسوخ کو تقویت مل رہی ہے اور دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کے بعد عراق کا دوسرا تجارتی ذریعہ مذہبی سیاحت ہے۔